لاہور ہائی کورٹ میں اونرشپ آرڈیننس کی معطلی — اصل سوالات برقرار اگر موجودہ ریونیو اور عدالتی نظام واقعی شفاف ہے تو پھر آج تک ان پٹواریوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی جنہوں نے پرائیویٹ منشی بٹھا کر سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کے ذریعے قبضہ مافیا کو فائدہ پہنچایا؟ یہ حقیقت ریکارڈ پر ہے کہ پٹواریوں کو منشی رکھنے کا اختیار کسی قانون نے نہیں دیا بلکہ لاہور ہائی کورٹ کے واضح احکامات موجود ہیں کہ کوئی بھی پٹواری پرائیویٹ منشی نہیں رکھ سکتا۔ اس کے باوجود یہ غیر قانونی نظام آج تک کیوں چل رہا ہے؟ سوال یہ ہے کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کب ہوگا؟ اور حقدار کو اس کا حق کب ملے گا

بریکینگ نیوز لاہورگلشن راوی پولیس کی کاروائی۔۔ عدالتوں,سرکاری ونجی اداروں,پولیس کا جعلی ترجمان گلشن راوی پولیس کی حراست میں۔۔۔۔ شعبہ صحافت کو بدنام کرنے اور جعلی صحافتی کارڈ استعمال کرنے پر ملزم عامر بٹ گرفتار۔۔۔ایس پی اقبال ٹاؤن رائے محمداجمل ملزم عامر بٹ لوگوں کو سرکاری اداروں،پولیس اور میڈیا کا ترجمان بتاکر دھوکا دیتا تھا ۔ترجمان پولیس ملزم نے وقت گرفتاری بھی پریس کا جعلی کارڈ دکھایا اور پولیس کو بھی اداروں کا ترجمان بتایا ۔ترجمان پولیس ایس ایچ او گلشن راوی اور انکی ٹیم نے مشکوک جان کر پوچھ گچھ کی جس پر جعلی کارڈ دکھایاگیا ۔ترجمان پولیس مختلف سرکاری و نجی اداروں اور میڈیا کا نمائندہ ظاہر کرنے پر قانونی کاروائی عمل میں لائی گئی۔ایس پی اقبال ٹاؤن کیپٹن(ر)محمداجمل