تحریر: میاں محمد منشا
چیئرمین | انٹرنیشنل میڈیا گروپ
لاہور ہائی کورٹ میں اونرشپ آرڈیننس کی معطلی — عدالتی احکامات پر عملدرآمد کیوں نہیں؟
لاہور ہائی کورٹ کی معزز چیف جسٹس محترمہ عالیہ نیلم کی جانب سے اونرشپ آرڈیننس کو معطل کیے جانے کا فیصلہ اپنی جگہ، مگر یہ اقدام ایک ایسے ریونیو نظام کے دفاع کے مترادف دکھائی دیتا ہے جس کی ساکھ عوامی سطح پر شدید سوالات کی زد میں ہے۔
یہ امر ریکارڈ پر موجود ہے کہ پٹواریوں کو منشی رکھنے کا اختیار نہ کسی قانون، نہ کسی رول اور نہ ہی کسی ضابطے نے دیا۔ اس کے برعکس، لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے واضح اور تحریری عدالتی احکامات موجود ہیں جن میں کہا گیا کہ کوئی بھی پٹواری کسی قسم کا پرائیویٹ منشی نہیں رکھ سکتا اور سرکاری ریکارڈ تک غیر مجاز افراد کی رسائی مکمل طور پر ختم کی جائے۔
اس کے باوجود تلخ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی پنجاب بھر کے ریونیو دفاتر اور ریکارڈ سینٹرز میں پٹواریوں کے ساتھ پرائیویٹ منشی سرعام کام کر رہے ہیں۔ یہی منشی مبینہ طور پر سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل، جعلی اندراجات اور دانستہ تاخیر کے ذریعے قبضہ مافیا کو فائدہ پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں، جبکہ اصل حقدار اپنے قانونی حق سے محروم رہتے ہیں۔
یہاں بنیادی سوالات جنم لیتے ہیں:
جب لاہور ہائی کورٹ کا حکم موجود ہے تو اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟
عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کرنے والے پٹواری آج بھی کیسے محفوظ ہیں؟
سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی کے باوجود مثالی سزائیں کیوں نہیں دی گئیں؟
اگر نظام واقعی شفاف ہے تو پھر پرائیویٹ منشیوں کا وجود آج تک کیسے برقرار ہے؟
صرف کسی ایک آرڈیننس کو معطل کر دینا عوامی مسائل کا حل نہیں۔ اصل مسئلہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی کمی، ریونیو نظام میں موجود بدعنوان عناصر اور قبضہ مافیا کے خلاف عملی کارروائی کا فقدان ہے۔
جب تک لاہور ہائی کورٹ کے اپنے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد نہیں کرایا جاتا، جب تک پرائیویٹ منشیوں کا مکمل خاتمہ اور ان کے سرپرست پٹواریوں کا احتساب نہیں ہوتا، اس وقت تک انصاف کے دعوے محض بیانات ہی رہیں گے۔
عوام آج بھی اس سوال کا جواب چاہتی ہے کہ عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کب ہوگی؟
⚠️ قانونی وارننگ / کاپی رائٹ نوٹس
نوٹ:
یہ تحریر انٹرنیشنل میڈیا گروپ کے چیئرمین میاں محمد منشا کی فکری و تحریری ملکیت ہے۔
اس مواد کو بغیر اجازت کاپی کرنا، شائع کرنا یا اپنے نام سے منسوب کرنا قانونی جرم ہے۔
خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ فرد یا ادارے کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھا جاتا ہے۔
212