یومِ مزدور (یکم مئی) — چھٹی کس کے لیے؟ مزدور یا افسر؟
کراچی: یکم مئی کو دنیا بھر میں یومِ مزدور کے طور پر منایا جاتا ہے، جس کا مقصد محنت کش طبقے کی جدوجہد اور حقوق کو اجاگر کرنا ہے۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں یہ دن ایک رسمی کارروائی بن کر رہ گیا ہے۔
آج بھی لاکھوں مزدور اپنے گھروں کا چولہا جلانے کے لیے سڑکوں، فیکٹریوں اور تعمیراتی مقامات پر کام کرنے پر مجبور ہیں۔ دیہاڑی دار مزدور کے لیے چھٹی کا مطلب بھوک ہے، کیونکہ اگر وہ کام نہ کرے تو اس کے بچوں کے لیے روٹی کا بندوبست ممکن نہیں ہوتا۔
دوسری جانب سرکاری دفاتر اور ادارے بند کر دیے جاتے ہیں، جہاں افسران چھٹی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ یہ ایک بڑا سوالیہ نشان ہے کہ جن لوگوں کا مزدوری سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں، وہی اس دن کے اصل فائدہ اٹھا رہے ہیں، جبکہ حقیقی مزدور آج بھی کام پر موجود ہے۔
اگر واقعی مزدوروں کو خراجِ تحسین پیش کرنا مقصود ہے تو صرف چھٹی کافی نہیں، بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ کم از کم اجرت پر عملدرآمد، مزدوروں کو صحت، تعلیم اور سوشل سکیورٹی کی فراہمی اور یومیہ اجرت والے مزدور کو اس دن کی اجرت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا گروپ کے چیئرمین میاں محمد منشا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اب وقت آ چکا ہے کہ یومِ مزدور کے نام پر دی جانے والی سرکاری چھٹیوں کے طریقہ کار پر نظرثانی کی جائے، تاکہ یہ دن واقعی مزدور کے لیے فائدہ مند ثابت ہو، نہ کہ صرف ایک علامتی روایت بن کر رہ جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ مزدور کے حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے، تاکہ ملک کا یہ محنت کش طبقہ باعزت اور محفوظ زندگی گزار سکے۔
آخر میں یہی سوال باقی رہ جاتا ہے کہ کیا ہم واقعی مزدور کے ساتھ کھڑے ہیں یا صرف ایک دن منا کر اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتے ہیں؟
26