35

انکشافات سے اٹھنے والا دھواں۔۔۔ کہیں شعلہ نہ بن جائے! ماچکو کسٹم چیک پوسٹ پر مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات، کسٹمز حکام کے لیے خطرے کی گھنٹی؟

انکشافات سے اٹھنے والا دھواں۔۔۔ کہیں شعلہ نہ بن جائے!
ماچکو کسٹم چیک پوسٹ پر مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات، کسٹمز حکام کے لیے خطرے کی گھنٹی؟
بلوچستان سے کراچی کے داخلی راستے پر قائم ماچکو کسٹم چیک پوسٹ، حب ریور روڈ، ضلع کیماڑی، مین آر سی ڈی روڈ پر کسٹمز کارروائیوں کے حوالے سے مبینہ بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات سامنے آ رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق چیک پوسٹ پر پکڑی جانے والی بعض گاڑیوں اور ان سے برآمد ہونے والے سامان کے حوالے سے مبینہ طور پر ایسے معاملات سامنے آئے ہیں جنہوں نے کسٹمز کارروائیوں کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اندرونی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض گاڑیوں سے برآمد ہونے والے سامان کی مکمل مقدار سرکاری ریکارڈ میں درج نہیں کی جاتی، جبکہ مبینہ طور پر گاڑی مالکان یا متعلقہ افراد کو یہ یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ کم مقدار ظاہر ہونے کے بعد گاڑی کی رہائی ممکن ہو جائے گی۔
ذرائع کے مطابق بعض معاملات میں گاڑیوں سے برآمد ہونے والے مال کا ایک حصہ ریکارڈ میں شامل کیا جاتا ہے، جبکہ باقی مال کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔
کسٹمز حکام کے اندرونی ذرائع اور ٹرانسپورٹرز کا ریکارڈ
اس معاملے میں سامنے آنے والے دعوے محض افواہوں یا سنی سنائی باتوں پر مبنی نہیں ہیں۔
رپورٹ کے لیے کسٹمز حکام کے اندرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے علاوہ متاثرہ ٹرانسپورٹرز اور گاڑی مالکان سے متعلق ریکارڈ بھی موجود ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
ان ذرائع اور ریکارڈ میں شامل معلومات کو فی الحال عوامی سطح پر مکمل طور پر ظاہر نہیں کیا جا رہا، تاہم ضرورت پڑنے پر متعلقہ دستاویزات، ریکارڈ اور شواہد مجاز قانونی فورم، تحقیقاتی اداروں یا عدالت کے سامنے پیش کیے جا سکتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اس معاملے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ماچکو کسٹم چیک پوسٹ پر ہونے والی کارروائیوں میں برآمد شدہ مال، سرکاری ریکارڈ اور ضبط شدہ سامان کے درمیان کوئی تضاد موجود ہے یا نہیں۔
گاڑی سے برآمد ہونے والا اصل مال کہاں جاتا ہے؟
اگر کسی گاڑی سے ایک مخصوص مقدار میں مال برآمد ہوتا ہے تو سرکاری ریکارڈ میں بھی وہی مکمل مقدار درج ہونی چاہیے۔
لیکن اگر موقع پر برآمد ہونے والے مال اور سرکاری ریکارڈ میں درج مقدار میں فرق ہو تو یہ فرق کس مرحلے پر پیدا ہوا؟
کیا گاڑی سے برآمد ہونے والا تمام مال سرکاری تحویل میں لیا گیا؟
کیا برآمد شدہ سامان کا مکمل وزن کیا گیا؟
کیا تمام سامان کی مکمل تصاویر اور ویڈیوز بنائی گئیں؟
کیا تمام سامان سرکاری گودام یا مال خانے میں جمع کرایا گیا؟
اور کیا وہاں جمع کرائے گئے مال کی مقدار وہی ہے جو گاڑی سے برآمد ہوئی تھی؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صرف سرکاری ریکارڈ اور شفاف تحقیقات سے ہی مل سکتا ہے۔
گاڑی مالکان کے دعوے بھی تحقیقات طلب
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض گاڑی مالکان کو مبینہ طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ان کی گاڑی کے خلاف کم مقدار کا کیس بنایا جائے گا اور گاڑی کی رہائی ممکن ہو جائے گی۔
لیکن بعض معاملات میں ذرائع کے مطابق گاڑی ریلیز ہونے کے بجائے کسٹمز کارروائی کے تحت بند اور ضبط ہو جاتی ہے۔
اس صورت حال میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر گاڑی کے مالک کو گاڑی کی رہائی کی یقین دہانی کرائی گئی تھی تو پھر بعد میں گاڑی کی قانونی حیثیت کیوں تبدیل ہوئی؟
کیا اس حوالے سے کوئی تحریری ریکارڈ موجود ہے؟
کیا گاڑی کے مالک کا بیان ریکارڈ کیا گیا؟
اور کیا کارروائی کے دوران برآمد شدہ تمام مال کی مکمل تفصیل سرکاری کاغذات میں درج کی گئی؟
مبینہ طور پر مال کی غیر قانونی منتقلی کا الزام
سب سے سنگین الزام یہ ہے کہ گاڑیوں سے برآمد ہونے والے سامان میں سے مبینہ طور پر کچھ مال سرکاری ریکارڈ سے باہر رکھا جاتا ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایسا مال بعد میں مبینہ طور پر کم قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے اور اس سے مالی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔
یہ الزام انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔
اگر یہ الزام درست نہیں تو مکمل ریکارڈ سامنے لا کر اسے غلط ثابت کیا جا سکتا ہے۔
لیکن اگر برآمد شدہ مال، سرکاری ریکارڈ اور مال خانے میں موجود سامان کے درمیان فرق سامنے آتا ہے تو پھر یہ معاملہ ایک بڑی محکمانہ اور قانونی تحقیقات کا متقاضی ہوگا۔
اب اصل ریکارڈ سامنے آنا چاہیے
ماچکو کسٹم چیک پوسٹ پر ایک مخصوص مدت کے دوران ہونے والی تمام کارروائیوں کا مکمل ریکارڈ سامنے آنا چاہیے۔
عوام اور متعلقہ حکام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ:
کتنی گاڑیاں پکڑی گئیں؟
کتنی گاڑیاں ضبط کی گئیں؟
کتنے مقدمات درج ہوئے؟
ہر گاڑی سے کتنا مال برآمد ہوا؟
برآمد شدہ مال کا وزن کتنا تھا؟
سرکاری ریکارڈ میں کتنی مقدار درج کی گئی؟
ضبط شدہ مال کہاں منتقل کیا گیا؟
مال خانے میں جمع شدہ مال کی مقدار کتنی ہے؟
ضبط شدہ گاڑیوں کی موجودہ قانونی حیثیت کیا ہے؟
کتنی گاڑیاں بعد میں ریلیز ہوئیں؟
کتنے کیسز ابھی زیرِ کارروائی ہیں؟
ضبط شدہ مال کا بعد میں کیا کیا گیا؟
ایک مکمل آڈٹ ہی حقیقت سامنے لا سکتا ہے
اس معاملے میں صرف ایک یا دو کیسز کی تحقیقات کافی نہیں ہوں گی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ گزشتہ چھ ماہ یا ایک سال کے دوران ماچکو کسٹم چیک پوسٹ پر پکڑی جانے والی تمام گاڑیوں اور برآمد ہونے والے سامان کا مکمل آڈٹ کیا جائے۔
گاڑیوں کے ریکارڈ، برآمد شدہ سامان، وزن، تصاویر، ویڈیوز، کارروائی کے کاغذات، مال خانے کے اندراج اور بعد کی قانونی کارروائی کو ایک دوسرے سے ملایا جائے۔
اگر تمام ریکارڈ ایک دوسرے سے مطابقت رکھتا ہے تو اٹھنے والے سوالات خود بخود ختم ہو جائیں گے۔
لیکن اگر موقع پر برآمد شدہ مال اور سرکاری ریکارڈ میں فرق پایا جاتا ہے تو پھر اس فرق کی ذمہ داری کا تعین بھی ضروری ہوگا۔
کسٹمز حکام کے لیے اہم سوال
ماچکو کسٹم چیک پوسٹ پر اٹھنے والے یہ سوالات اب نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔
کیونکہ:
انکشافات سے اٹھنے والا دھواں کہیں شعلہ نہ بن جائے۔
اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو شفاف تحقیقات کے ذریعے حقیقت عوام کے سامنے لائی جائے۔
اور اگر کسی سطح پر بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار عناصر کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے۔
کیونکہ اگر سرکاری کارروائی میں پکڑی جانے والی گاڑیوں، برآمد ہونے والے سامان اور سرکاری ریکارڈ میں کوئی تضاد موجود ہے تو یہ صرف ایک گاڑی یا ایک کیس کا معاملہ نہیں ہوگا۔
یہ پورے نظام کی شفافیت کا سوال ہوگا۔
اب سوال یہ ہے:
ماچکو کسٹم چیک پوسٹ پر کتنی گاڑیاں پکڑی گئیں؟
کتنا مال برآمد ہوا؟
سرکاری ریکارڈ میں کتنا مال درج کیا گیا؟
ضبط شدہ مال کہاں موجود ہے؟
اور اگر برآمد شدہ مال اور ریکارڈ میں فرق ہے۔۔۔ تو یہ فرق کہاں پیدا ہوا؟
انکشافات سے اٹھنے والا دھواں۔۔۔ کہیں شعلہ نہ بن جائے!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں