سندھ کے مختلف علاقوں میں ایک افسوسناک رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں چند نام نہاد صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال کر صرف پولیس کے خلاف یکطرفہ خبریں بنانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اکثر ان کی خبروں کا موضوع صرف گٹکا، ماوا، جوئے اور سٹے کے اڈے ہوتے ہیں، جبکہ معاشرے میں موجود دیگر سنگین مسائل کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

کراچی میں آگ کے سانحات: انسانی جانوں سے کھلواڑ کب تک؟ ڈیسک: سرعام سی آئی ڈی نیوز | انٹرنیشنل میڈیا گروپ کراچی، جو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، آج ایک ایسے المیے کی تصویر بن چکا ہے جہاں تجارتی پلازے، شاپنگ مالز اور بلند و بالا عمارتیں انسانی جانوں کے لیے موت کے کنویں ثابت ہو رہی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران کراچی میں آگ لگنے کے جو ہولناک واقعات رونما ہوئے

لاہور ہائی کورٹ میں اونرشپ آرڈیننس کی معطلی — اصل سوالات برقرار اگر موجودہ ریونیو اور عدالتی نظام واقعی شفاف ہے تو پھر آج تک ان پٹواریوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی جنہوں نے پرائیویٹ منشی بٹھا کر سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کے ذریعے قبضہ مافیا کو فائدہ پہنچایا؟ یہ حقیقت ریکارڈ پر ہے کہ پٹواریوں کو منشی رکھنے کا اختیار کسی قانون نے نہیں دیا بلکہ لاہور ہائی کورٹ کے واضح احکامات موجود ہیں کہ کوئی بھی پٹواری پرائیویٹ منشی نہیں رکھ سکتا۔ اس کے باوجود یہ غیر قانونی نظام آج تک کیوں چل رہا ہے؟ سوال یہ ہے کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کب ہوگا؟ اور حقدار کو اس کا حق کب ملے گا

پنجاب حکومت کا ظالمانہ نظام اور غریب عوام پر بڑھتے ہوئے بوجھ ملک کے موجودہ حالات میں غریب عوام پر بجلی کے بلوں کی صورت میں جو ظلم ڈھایا جا رہا ہے وہ کسی عذاب سے کم نہیں۔ حال ہی میں ایک عام صارف کو صرف 204 یونٹ کے استعمال پر 8040 روپے کا بل موصول ہوا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ عوامی قوتِ خرید اور زندگی کے معیار کو تباہ کر رہی ہے۔

یومِ پاکستان — قربانیوں کی داستان، نسلوں کے لیے پیغام 1947 کا سال برصغیر کی تاریخ کا وہ سنگِ میل تھا جب لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان، مال اور گھربار قربان کر کے ایک آزاد وطن کا خواب حقیقت میں بدل دیا۔ قیامِ پاکستان کوئی تحفہ نہیں تھا، یہ بے شمار قربانیوں اور لازوال جدوجہد کا نتیجہ تھا۔