سندھ کے مختلف علاقوں میں ایک افسوسناک رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں چند نام نہاد صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال کر صرف پولیس کے خلاف یکطرفہ خبریں بنانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اکثر ان کی خبروں کا موضوع صرف گٹکا، ماوا، جوئے اور سٹے کے اڈے ہوتے ہیں، جبکہ معاشرے میں موجود دیگر سنگین مسائل کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

کراچی میں آگ کے سانحات: انسانی جانوں سے کھلواڑ کب تک؟ ڈیسک: سرعام سی آئی ڈی نیوز | انٹرنیشنل میڈیا گروپ کراچی، جو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، آج ایک ایسے المیے کی تصویر بن چکا ہے جہاں تجارتی پلازے، شاپنگ مالز اور بلند و بالا عمارتیں انسانی جانوں کے لیے موت کے کنویں ثابت ہو رہی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران کراچی میں آگ لگنے کے جو ہولناک واقعات رونما ہوئے

حب: تھانہ ہائیٹ کی حدود میں ڈکیتی، مزاحمت پر فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق، پولیس کی غفلت بے نقاب حب پولیس تھانہ ہائیٹ کی حدود میں ایک اور سنگین واردات نے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے ایک شخص موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا

لاہور ہائی کورٹ میں اونرشپ آرڈیننس کی معطلی — اصل سوالات برقرار اگر موجودہ ریونیو اور عدالتی نظام واقعی شفاف ہے تو پھر آج تک ان پٹواریوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی جنہوں نے پرائیویٹ منشی بٹھا کر سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کے ذریعے قبضہ مافیا کو فائدہ پہنچایا؟ یہ حقیقت ریکارڈ پر ہے کہ پٹواریوں کو منشی رکھنے کا اختیار کسی قانون نے نہیں دیا بلکہ لاہور ہائی کورٹ کے واضح احکامات موجود ہیں کہ کوئی بھی پٹواری پرائیویٹ منشی نہیں رکھ سکتا۔ اس کے باوجود یہ غیر قانونی نظام آج تک کیوں چل رہا ہے؟ سوال یہ ہے کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کب ہوگا؟ اور حقدار کو اس کا حق کب ملے گا