جڑانوالہ سے اختر یاسمین، ڈپٹی بیورو چیف کی رپورٹ کے مطابق
جڑانوالہ کے نواحی گاؤں 128 گ ب کے رہائشیوں نے ایک مبینہ اتائی ڈاکٹر اور غیر قانونی طور پر ایلوپیتھک پریکٹس کرنے والے افراد کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اہلِ علاقہ کے مطابق محسن نامی شخص عرصۂ دراز سے مبینہ طور پر بغیر قانونی اجازت ایلوپیتھک علاج کر رہا ہے، جبکہ اس کے والد ملک دلبر، جو خود کو حکیم ظاہر کرتے ہیں، وہ بھی مبینہ طور پر انگریزی ادویات اور انجیکشن استعمال کر رہے ہیں، حالانکہ مقامی شہریوں کے مطابق انہیں اس کی قانونی اجازت حاصل نہیں۔
شہریوں کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ شخص پہلے “ہاجرہ کلینک” کے نام سے ایک نجی اسکول کی عمارت میں مبینہ طور پر ڈسپنسری چلا رہا تھا۔ تاہم جب اہلِ علاقہ نے اس کے خلاف آواز اٹھائی اور متعلقہ اداروں کو شکایات درج کرائیں تو اس نے مبینہ طور پر کلینک کا سامان وہاں سے ہٹا کر اپنے گھر منتقل کر دیا۔
علاقہ مکینوں کے مطابق اب مذکورہ شخص اپنے گھر سے ہی مبینہ طور پر مریضوں کا علاج کر رہا ہے، جبکہ بعض اوقات ادویات سے بھرا بیگ لے کر گاؤں میں مختلف مقامات پر بھی لوگوں کا معائنہ اور علاج کرتا ہے۔ شہریوں کا خدشہ ہے کہ اگر غیر معیاری یا استعمال شدہ سرنجیں استعمال کی جا رہی ہیں تو اس سے ہیپاٹائٹس اور دیگر خطرناک بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اہلِ علاقہ کا مزید کہنا ہے کہ مبینہ غلط انجیکشن لگانے کے باعث متعدد افراد کو شدید جسمانی مسائل کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ صحت کو کئی بار درخواستیں بھی دی گئیں، تاہم ان کے بقول اب تک مؤثر کارروائی نہیں ہو سکی۔
شہریوں کے مطابق متعلقہ اداروں کی ممکنہ کارروائیوں کی اطلاعات بھی مبینہ طور پر پہلے ہی مذکورہ افراد تک پہنچ جاتی ہیں، جس کی وجہ سے کارروائی مؤثر ثابت نہیں ہو پاتی۔
اہلِ علاقہ نے وزیراعلیٰ پنجاب، سیکریٹری صحت، سی او ہیلتھ فیصل آباد، ڈسٹرکٹ ڈرگ انسپکٹر اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، مکمل تحقیقات کرائی جائیں، اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ مزید قیمتی انسانی جانوں کو خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔
نوٹ: اس رپورٹ میں شامل تمام الزامات اہلِ علاقہ کے بیانات اور دعوؤں پر مبنی ہیں۔ متعلقہ افراد یا اداروں کا مؤقف موصول ہونے کی صورت میں اسے بھی اسی اہمیت کے ساتھ نشر کیا جائے گا۔
47