لاہور ہائی کورٹ میں اونرشپ آرڈیننس کی معطلی — اصل سوالات برقرار اگر موجودہ ریونیو اور عدالتی نظام واقعی شفاف ہے تو پھر آج تک ان پٹواریوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی جنہوں نے پرائیویٹ منشی بٹھا کر سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کے ذریعے قبضہ مافیا کو فائدہ پہنچایا؟ یہ حقیقت ریکارڈ پر ہے کہ پٹواریوں کو منشی رکھنے کا اختیار کسی قانون نے نہیں دیا بلکہ لاہور ہائی کورٹ کے واضح احکامات موجود ہیں کہ کوئی بھی پٹواری پرائیویٹ منشی نہیں رکھ سکتا۔ اس کے باوجود یہ غیر قانونی نظام آج تک کیوں چل رہا ہے؟ سوال یہ ہے کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کب ہوگا؟ اور حقدار کو اس کا حق کب ملے گا

“یہ صرف ایک تحریر نہیں، ایک سلام ہے اُن بہادروں کے نام جو سندھ پولیس کی وردی پہن کر دن رات ہماری حفاظت کرتے ہیں۔ وہ سپاہی جو خطرے میں بھی ڈٹا رہتا ہے، جو ماں، بیوی اور بچوں کو چھوڑ کر صرف اپنے فرض کو ترجیح دیتا ہے، وہ ہمارا اصل ہیرو ہے۔ میں، میاں محمد منشاء، اپنی صحافت کے ذریعے اُس قربانی، وفاداری اور حوصلے کو سلام پیش کرتا ہوں۔ تم اکیلے نہیں ہو، تم پر فخر ہے۔ یہ قوم تمہیں سلام کرتی ہے، اور میں تمہاری کہانی دنیا تک پہنچاتا رہوں گا۔”