593

9 نومبر شاعر مشرق، مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کا یوم پیدائش رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے ایک تازہ بیان میں فرمایا کہ “علامہ محمد اقبال لاہوری برصغیر اور عالم اسلام کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ مزید فرماتے ہیں: “اگر ہم فقط یہ کہنے پر اکتفا کریں کہ اقبال ایک فلسفی ہے یا ایک عالم ہے تو پھر اس کا حق ادا نہیں کیا۔

نومبر شاعر مشرق، مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال کا یوم پیدائش ہےـ سابق وزیراعظم نواز شریف کے آخری دور اقتدار سے پہلے تک اس دن باقاعدگی سے چھٹی ہوا کرتی تھیـ لوگ اسے “یوم اقبال” کی تعطیل سے جانتے تھے اور ہیںـ البتہ پچھلے چند سالوں سے اس دن کی چھٹی بھی عید الفطر کے چاند کی طرح “متنازعہ” بنا دی گئی ہےـ کبھی چھٹی ہوتی ہے اور کبھی چھٹی کی چھٹی۔ اب ایسی صورت حال میں کچھ سوالات کا ذہن میں ابھرنا فطری سی بات ہے کہ پہلے چھٹی ہوتی کیوں تھی اور اب کیوں نہیں ہوتی؟ چھٹی ہونے کے اثرات، فائدے، نقصانات کیا کیا ہیں؟ چھٹی نہ ہونے کے اثرات، فائدے، نقصانات کیا کیا ہیں اور کس نوعیت کے ہیں؟۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔

خصوصاً نئے پاکستان کے نئے وزیراعظم عمران خان کا پرانے وزیراعظم جناب نواز شریف کی پیروی کرنا، حالانکہ نواز شریف دور میں وفاق نے چھٹی ختم کرنے کا اعلان کیا تو خیبر پختونخوا میں چھٹی برقرار رکھی گئی تھی۔ اب جبکہ عمران خان صاحب “جو نقش کہن نظر آئے مٹا دو” کے نعرے کے ساتھ میدان کارزار میں اترے اور اقتدار نون لیگ سے چھین کر ہی دم لیا اور عوام کو نئے پاکستان کے استعارے سے متعارف کرایا لیکن “یوم اقبال” کی چھٹی کے معاملے پر وہ بھی نواز شریف کے ہمنوا نکلے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے فوجی حکمرانوں کو “آمر” کہہ کر طنز و طعنہ دینے والی سول حکومتیں خود “مامور” ہیں، جسے سیاسی زبان میں کٹھ پتلی کہتے ہیں۔ اب اگر یہ مامور ہیں تو پھر آمر کون ہے، جن کے احکام پر یہ سر تسلیم خم کیے جاتے ہیںـ نہ جانے اس طرح کے کتنے سوالات ہیں، جو پاکستان کے ہر باشعور اور سوچنے سمجھنے والے ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں اور تشنئہ جواب ہیں۔ لہذا اس چھٹی کے موضوع پر بھی ہمارے اہل قلم، اہل ادب اور اقبال شناس افراد کو لکھنا چاہیئے، تاکہ معاملہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے۔

میں فی الحال اس دن کی چھٹی کے حوالے سے مزید کچھ نہیں لکھنا چاہتا بلکہ مسلم معاشرے، خصوصاً پاکستان میں اقبال شناسی اور کلام اقبال کی اہمیت و ضرورت کو بیان کرنے اور اسے عام کرنے کے لیے کیا کچھ کرنا چاہیئے، اس حوالے سے کچھ عرائض پیش کرنا چاہتا ہوں، لیکن پہلے تمہیداً علامہ اقبال کے حوالے سے رہبر مسلمین جہاں آیت اللہ سید علی خامنہ ای دام ظلہ کے کچھ ارشادات پیش کرتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں کہ “اقبال مشرق کا ایک درخشندہ و تابندہ ستارہ ہےـ ہر انقلاب ادب کی کوکھ سے جنم لیتا ہے اور بلا شبہ انقلاب اسلامی کی کامیابی میں اقبال کی شاعری کا بڑا حصہ ہے۔”

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے ایک تازہ بیان میں فرمایا کہ “علامہ محمد اقبال لاہوری برصغیر اور عالم اسلام کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ مزید فرماتے ہیں: “اگر ہم فقط یہ کہنے پر اکتفا کریں کہ اقبال ایک فلسفی ہے یا ایک عالم ہے تو پھر اس کا حق ادا نہیں کیا۔ اس لیے کہ اقبال کی زندگی کے دوسرے ابعاد بھی اس قدر درخشندہ ہیں کہ انہیں ایک عالم یا شاعر یا ایک فلسفی کہنا ان کی شخصیت کو چھوٹا کرنا ہے۔ بے شک اقبال ایک بہت بڑے شاعر بھی تھےـ اقبال کی اردو شاعری کے بارے میں اردو زبان و ادب کے ماہرین کہتے ہیں کہ اردو کے بہترین اشعار ہیں، ان کی فارسی شاعری بھی میری نظر میں معجزات شعر ہے۔” اقبال کی شاعری، ان کے افکار، ان کی تعلیمات اور ان کے پیغامات کو عام کرنا اور خصوصاً نئی نسل تک منتقل کرنا نہ تنہا ہماری اخلاقی اور قومی ذمہ داری ہے بلکہ یہ ایک امانت ہے، جس میں کوتاہی اپنے ساتھ، اپنی نسلوں کے ساتھ، اپنے ملک اور نظریہ پاکستان کے ساتھ خیانت ہوگی۔ سو ہمیں اقبال کی شاعری، ان کی تعلیمات اور ان کے پیغامات کا پرچار ایک قومی و ملی فریضہ سمجھ کر مسلسل کرتے رہنا چاہیئے۔

خصوصاً جب ہمارے حکمران “یوم اقبال” کی چھٹی منانے تک کے روادار نہیں رہے تو تمام محبان وطن کی ذمہ داری ہے کہ اقبال کے حوالے سے تحریریں، مضامین، تقریریں، شاعری اور دیگر تقریبات کو فقط ایک دن یعنی نو نومبر “یوم اقبال” میں منحصر نہیں کرنا چاہیئے بلکہ ہمیں ایک مشن کے طور پر اقبال اور تعلیمات اقبال کو عام کرنے کے لیے نومبر کے پورے مہینے کو “ماہ اقبال” قرار دے کر مہینے بھر کے حوالے سے فعالیت جاری رکھنی چاہیئے، کیونکہ اقبال شاعر مشرق، حکیم الامت اور مفکر پاکستان تھے، ہیں اور رہیں گے۔ جب تک کوئی مشرقی ہوتے ہوئے مغرب زدہ نہ ہو، امت مصطفیٰ کا فرد ہوتے ہوئے الحاد پسند نہ ہو۔ پاکستان میں بستے ہوئے قیام پاکستان و وجود پاکستان کا مخالف نہ ہو، اقبال کی شاعری اس کی زندگی میں امید کی روشنی و ایمان کی حرارت پیدا کرتی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں