سوشل میڈیا پر ریاست مخالف بیانیہ: حقیقت اور ذمہ داری کا توازن
انٹرنیشنل میڈیا گروپ کے چیئرمین میاں محمد منشاء نے سوشل میڈیا پر ان تبصروں کا جواب دیا ہے جن میں سوات سیلابی صورتحال پر ریاست کو مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش تصویریں خود گواہ ہیں کہ ریاستی ادارے، بالخصوص افواجِ پاکستان اور ریسکیو ٹیمیں دن رات امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ مشکل وقت میں ریاست نے لاشیں نکالنے، زندہ افراد کو بچانے اور متاثرین کو ریلیف دینے کے لیے بھرپور کارروائیاں کی ہیں، اور یہ عمل اب بھی جاری ہے۔
سوات میں حالیہ سیلابی ریلوں سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کے بعد ریاستی ادارے مسلسل ریسکیو سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ تاہم، اس انسانی المیے کو بنیاد بنا کر سوشل میڈیا پر ریاست اور حکومتی اداروں کے خلاف منفی پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، جس پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔ حادثات کو صرف حکومت کی ناکامی قرار دینا درست نہیں، کیونکہ کئی پہلو ایسے ہیں جن میں عوام کی لاپروائی اور مقامی ہوٹل مالکان کی غفلت بھی برابر کی شریک ہے۔
سیاح اکثر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ایسے علاقوں کا رخ کرتے ہیں جہاں قدرتی آفات کا امکان پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے پہلے ہی دفعہ 144 نافذ ہے، میڈیا اور مقامی انتظامیہ کے ذریعے آگاہی مہم بھی چلائی گئی ہے۔ اس کے باوجود اگر لوگ دریا کے بیڈ میں جا کر بیٹھتے ہیں، سیلفیاں لیتے ہیں، یا ناشتہ کرتے ہیں تو سوال صرف حکومت پر نہیں بلکہ عوامی شعور پر بھی اٹھتا ہے۔
دوسری طرف، ہوٹلز کے مالکان جو ان علاقوں میں کاروبار کرتے ہیں، ان کی بھی ذمہ داری تھی کہ وہ خطرناک مقامات کی نشاندہی کریں اور سیاحوں کو محتاط رہنے کی تلقین کریں۔ بدقسمتی سے کئی ہوٹلز قوانین کے دائرے میں نہیں آتے یا ان پر عملدرآمد نہیں ہو پاتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے ہوٹلز کو قانون کے تحت لایا جائے، اور انہیں پابند کیا جائے کہ وہ اپنے مہمانوں کو خطرناک مقامات پر جانے سے روکیں۔
ریاست کا فرض ہے کہ ایسے خطرناک مقامات کو مستقل سیل کرے، وہاں پہرہ تعینات کرے اور ضابطوں پر سختی سے عملدرآمد کروائے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ صرف حکومت پر الزام لگانے سے ہم اپنی اجتماعی ذمہ داری سے آنکھ نہیں چرا سکتے۔ عوام، ہوٹل مالکان اور ریاست، تینوں کو اپنی اپنی حدود میں اپنا کردار ذمہ داری سے ادا کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر، ایسے سانحات دہراتے رہیں گے اور ہم صرف الزام در الزام کا کھیل کھیلتے رہیں گے۔