پاکستان کو ڈیجیٹل خودمختاری کی جانب بڑھنا ہوگا — غیر ملکی موبائل نیٹ ورک کمپنیوں کے بجائے پی ٹی سی ایل کے ذریعے قومی انٹرنیٹ نیٹ ورک کا قیام
تمہید:
ڈیجیٹل دور میں انٹرنیٹ اور موبائل سگنلز کسی بھی ملک کی معاشی، تعلیمی اور سماجی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں موبائل نیٹ ورک سروس فراہم کرنے والی کمپنیاں جیسے کہ جیز، زونگ، ٹیلی نار، یو فون اور دیگر غیر ملکی کمپنیوں کی کارکردگی عوامی توقعات سے نہایت کم تر ہے۔ نیٹ ورک سست روی کا شکار ہے، سگنل کے مسائل عام ہیں، اور سروس کے باوجود صارفین کو مہنگے ترین پیکجز خریدنے پڑتے ہیں۔
مسئلے کی نوعیت:
1. نیٹ ورک کی خراب کارکردگی:
شہری ہو یا دیہی علاقہ، موبائل نیٹ ورک کی سروس ہر جگہ غیر تسلی بخش ہے۔ انٹرنیٹ کی رفتار بہت کم، کال ڈراپ ہونے کے واقعات زیادہ اور کسٹمر سروس ناکارہ ہو چکی ہے۔
2. عوامی استحصال:
صارفین ہر ماہ ہزاروں روپے صرف انٹرنیٹ اور کال پیکجز پر خرچ کرتے ہیں، مگر اس کے عوض نہ سروس معیاری ملتی ہے اور نہ ہی مسائل کا کوئی مستقل حل۔
3. معاشی نقصان:
غیر ملکی کمپنیاں اربوں روپے کا منافع پاکستان سے حاصل کر کے اپنے ممالک منتقل کر دیتی ہیں جبکہ پاکستان کو معمولی ٹیکس ملتا ہے۔ یہ رقم ملکی معیشت میں خاطر خواہ حصہ نہیں ڈالتی۔
تجویز: پی ٹی سی ایل کے ذریعے قومی نیٹ ورک کی تعمیر
پاکستان کو چاہیے کہ وہ ان غیر موثر اور غیر ملکی موبائل نیٹ ورک کمپنیوں کے ساتھ اپنے معاہدے ختم کرے اور پی ٹی سی ایل (Pakistan Telecommunication Company Limited) کے تحت ایک قومی ڈیجیٹل نیٹ ورک قائم کرے، جو مکمل طور پر حکومت پاکستان کے زیر کنٹرول ہو۔
اس اقدام کے فوائد:
1. خودمختاری:
قومی نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان ڈیجیٹل میدان میں خودمختار ہو گا، اور تمام ڈیٹا کی سیکیورٹی ملکی ہاتھوں میں ہوگی۔
2. آمدنی میں اضافہ:
اگر ہر صارف سے ماہانہ ایک ہزار روپے ٹیکس یا نیٹ فنڈ کی صورت میں لیا جائے، تو اندازاً لاکھوں صارفین سے اربوں روپے کی آمدنی ممکن ہو سکتی ہے، جو قومی خزانے کو سہارا دے گی۔
3. بہتر سروس:
چونکہ پی ٹی سی ایل حکومتی ملکیت ہے، اس لیے اس کی توجہ منافع سے زیادہ عوامی سہولت پر مرکوز ہو سکتی ہے، جس سے سروس کو بہتر بنانے کے مواقع بڑھیں گے۔
4. روزگار میں اضافہ:
اس منصوبے کے ذریعے ملک میں لاکھوں نئی نوکریوں کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، جو بے روزگاری کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
نتیجہ:
اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان اپنی ڈیجیٹل خودمختاری کی جانب قدم بڑھائے۔ غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار ختم کر کے ایک قومی نیٹ ورک کا قیام نہ صرف عوام کے مفاد میں ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر حکومت سنجیدگی سے اس منصوبے پر عمل کرے تو پاکستان جلد ہی نہ صرف ڈیجیٹل خودمختاری حاصل کرے گا بلکہ ایک خود کفیل ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمایاں مقام بھی حاصل کر سکتا ہے۔
تحریر کردہ:
میاں محمد منشاء
چیئرمین، انٹرنیشنل میڈیا گروپ