پنجاب حکومت کا ظالمانہ نظام اور غریب عوام پر بڑھتے ہوئے بوجھ
ملک کے موجودہ حالات میں غریب عوام پر بجلی کے بلوں کی صورت میں جو ظلم ڈھایا جا رہا ہے وہ کسی عذاب سے کم نہیں۔ حال ہی میں ایک عام صارف کو صرف 204 یونٹ کے استعمال پر 8040 روپے کا بل موصول ہوا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ عوامی قوتِ خرید اور زندگی کے معیار کو تباہ کر رہی ہے۔
بجلی کا بحران اور عوام پر بوجھ
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جہاں ایک طرف غریب عوام کو معمولی بجلی کے استعمال پر ہزاروں روپے کا بل تھما دیا جاتا ہے، وہیں دوسری طرف سرکاری ادارے، اشرافیہ اور حکومتی دفاتر بجلی بالکل مفت یا انتہائی کم نرخوں پر استعمال کر رہے ہیں۔ غریب عوام دن رات محنت کرکے گھر چلانے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، لیکن مہنگائی اور بلوں کی ادائیگی نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔
ٹیکسوں کا جال
پنجاب حکومت اور وفاقی سطح پر پالیسی ساز اداروں نے عوام پر ہر طرف سے ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا ہے۔ بجلی، گیس، پٹرول، کھانے پینے کی اشیاء اور دیگر بنیادی ضروریات سب پر ٹیکس عائد ہیں۔ یہ ٹیکس عوامی فلاح یا سہولت پر خرچ نہیں کیے جاتے بلکہ حکمرانوں کے شاہانہ اخراجات، فضول دوروں اور عیاشیوں پر ضائع کر دیے جاتے ہیں۔
آئی ایم ایف کا شکنجہ
حکمران طبقہ ہر بار یہی دعویٰ کرتا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض عوامی ریلیف اور ترقی کے منصوبوں کے لیے لیا گیا ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قرضے کی خطیر رقم خود حکمران اور اشرافیہ کی جیبوں میں چلی جاتی ہے، جبکہ عوام پر مزید ٹیکس اور مہنگائی کا پہاڑ توڑ دیا جاتا ہے۔ اس نظام نے غریب عوام کو غربت کی چکی میں بری طرح پیس دیا ہے۔
بجلی بحران کا حل کیوں نہیں نکالا جاتا؟
یہ سوال بھی نہایت اہم ہے کہ جب دوسرے ممالک سرمایہ کاری کرنے اور سستی بجلی فروخت کرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں تو پاکستان ان سے کیوں نہیں خریدتا؟ اگر سستی بجلی درآمد کی جائے تو نہ صرف بجلی کا بحران ختم ہوسکتا ہے بلکہ عوام کو ریلیف بھی دیا جا سکتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے حکمران یہ جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتے، کیونکہ مہنگی بجلی بیچنے سے مافیاز اور کرپٹ عناصر کو فائدہ ہوتا ہے۔ یہ رویہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ حکومت عوام دشمن پالیسیوں پر گامزن ہے اور ریلیف دینے میں بالکل سنجیدہ نہیں۔
عوامی شعور اور اتحاد کی ضرورت
اب وقت آ چکا ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہوں اور ان پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کریں۔ یہ صرف انفرادی جدوجہد سے ممکن نہیں بلکہ پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا پڑے گا۔
پاکستانی عوام کو ایک قوم بن کر ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔
صحافی برادری کو چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کو اجاگر کرے اور حق بات کو بے خوفی کے ساتھ سامنے لائے۔
وکلا کمیونٹی کو چاہیے کہ وہ قانونی محاذ پر عوام کا ساتھ دے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحد ہو۔
نتیجہ
پنجاب حکومت کے موجودہ اقدامات اور عوام دشمن پالیسیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ نظام غریبوں کے لیے نہیں بلکہ صرف اشرافیہ کے تحفظ کے لیے ہے۔ بجلی کا بحران ختم کرنا ممکن ہے، مگر حکمرانوں کی نیت عوام کو ریلیف دینے کی نہیں ہے۔ اب وقت ہے کہ پوری قوم، صحافی اور وکلا برادری کے ساتھ مل کر اس ظالمانہ نظام کے خلاف جدوجہد کرے، تاکہ آنے والی نسلوں کو اس جبر اور استحصال سے نجات دلائی جا سکے۔