212

حکومت چلی گئی لیکن بدمعاشی نہ جا سکی۔

لاہور سابق ایم پی اے اور سابق چیئرمین زکوٰۃ و عشر لاہور نوید انجم نے اپنے سکول کے گارڈ کو رات کے بارہ بجے سکول کے اندر ہی دی رہائش سے دھکے اور گالیاں دے کر نہ صرف ملازمت سے فارغ کر دیا بلکہ تنخواہ دینے سے بھی انکار کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق عارفوالا کے رہائشی حمید کو کینال بنک سکیم میں واقع کینٹ پبلک سکول بطور گارڈ بھرتی کر رکھا تھا اور سکول کے اوپر ہی سرونٹ کوارٹر میں اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ رہائش پذیر تھا جسے اب مجبور کیا جارہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو گھر اور سکول کی صفائی ستھرائی کے لئے بھی راضی کرے حمید کے مسلسل انکار پر گزشتہ رات سابق ن لیگی ایم پی اے نے اسے رات کی تاریکی میں سکول چھوڑ جانے کا کہا اور گالم گلوچ کرتے ہوئے دھمکیاں دیں کہ اگر کہیں آس پاس بھی نظر آئے تو مختلف مقدمات میں اندر کروا دوں گا گارڈ نے کافی منت سماجت کے بعد صبح تک کا وقت لیا کہ رات کے اس پہر بیوی بچے اور گھریلو سامان کو کیسے لے کر جاؤں گا جبکہ میرے پاس واپسی کا کرایہ بھی نہیں یاد رہے کہ گارڈ کا بیٹا اسی سکول میں تیسری جماعت کا طالبعلم تھا جس کے سالانہ امتحان میں صرف تین ماہ رہ گئے تھے اور جس کا قیمتی تعلیمی سال بھی ضائع کر دیا گیا ہے گارڈ رنجیدہ حالت میں آج دن بارہ بجے اپنے آبائی علاقے کو روانہ ہو گیا اس نے بتایا کہ مجھے کہا گیا ہے کہ اگلے ماہ آ کر تنخواہ لے جانا اس نے یہ بھی کہا کہ اب میں اتنی دور سے تنخواہ لینے آؤں گا تو کیا خبر ملے گی بھی یا نہیں اور اگر ایک دو چکر لگ گئے تو میری تنخواہ کے برابر ٹرانسپورٹ خرچہ ہو چکا ہو گا لہذا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد کرتا ہوں کہ غریب آدمی ہوں کوئی ٹکر نہیں لے سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں