222

مدرسہ ایمان القرآن کی انچارج کی گاڑی کو حادثہ یا اقدام قتل۔

علی آئیڈیل سکول اور مدرسہ ایمان القرآن کی انچارج حافظہ ملائکہ عباسی کی گاڑی حادثہ کا شکار ہو گئی۔
مال روڈ نہر کے قریب جہاں گاڑی میں 3 لوگ سوار تھے ۔
گاڑی حافظہ صاحبہ خود چلا رہی تھی ۔
ایک ٹرالے نے ٹکر دے ماری گاڑی میں موجود حافظہ صاحبہ اور باقی افراد بھی معجزانہ محفوظ رہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے حافظہ صاحبہ کے سکول پے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ جہاں اس وقت بھی سب معجزانہ محفوظ رہے۔
ٹرالے کے ڈرائیور کو حراست میں لینے کے بعد جب اس کا موبائل چیک کیا گیا تو پتا چلا یہ حادثہ جان بوجھ کے سازش کے تحت کروایا گیا۔اس میں حافظہ صاحبہ کی گاڑی کو ٹکر مارنے سے پہلے کی پک تھی ۔
پٹرول ڈلواتے وقت کی بھی پک تھی۔لیکن پولیس نے وقتی کاروائی ڈالتے ہوے کچھ پیسے لیکر چھوڑ دیا۔
کیا اگر ایسا واقعہ دوبارہ جان لیوا ثابت ہوا تو پولیس تب بھی ایسی کاروائی کر کے سب کچھ دفن کر دے گی۔کیا یہ کھوکھلی تبدیلی ہے کہ فری تعلیم وہ سکول میں ہو یا مدرسہ میں میں ایسے نیک لوگوں کی جان بھی محفوظ نہیں ۔مدرسہ ایمان القرآن اور علی آئیڈیل سکول میں بچوں اور بچییوں کو مفت تعلیم دی جاتی ہے۔بکس،یونیفارم،شوز،اور بیگ بھی حافظہ صاحبہ اپنی جیب خرچ سے ادا کرتی ہے۔
جو امن کے دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہا۔
ہم سب دعاگو ہے کہ اللہ تعالی حافظہ صاحبہ کی حفاظت اور ان کو اس عمل کا اجرعظیم عطا فرماۓ آمین۔
میری وزیراعلی پنجاب , وزیر قانون پنجاب و وفاق, وزیر اعظم عمران خان صاحب, چیف جسٹس لاہور, چیف جسٹس سپریم کورٹ , آرمی چیف پاکستان سے التماس ہے کے دشمن بار بار حملے کرنے کے باوجود پولیس کے ساتھ مل کے بلیک میلنگ اور دھمکیوں پے اتر آۓ ہے۔جو تبدیلی کے دعوے داروں پہ سوالیہ نشان ہے ۔کیا یہ تبدیلی ہے کہ نیکی کے کام کیلیے بھی ڈرنا پڑھے گا۔ہماری اپیل ہے کہ امن اور نیکی کے دشمنوں کے خلاف فوری ایکشن لیا جاۓ۔

ہمارے حوصلے کبھی پست نہیں ہونگے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں