54

حب سٹی میں گلی گلی شراب کی مبینہ فروخت، سرعام CID News کے چیئرمین میاں محمد منشا کے محکمہ ایکسائز سے سخت سوالات حب سٹی: اللہ آباد ٹاؤن، باب بلوچستان، گڈانی بس اسٹاپ، نوین وائن اسٹور کے اطراف سمیت حب شہر کے مختلف گلی محلوں میں شراب کی مبینہ فروخت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سرعام CID News کی جانب سے سنگین سوالات اٹھا دیے گئے ہیں۔

حب سٹی میں گلی گلی شراب کی مبینہ فروخت، سرعام CID News کے چیئرمین میاں محمد منشا کے محکمہ ایکسائز سے سخت سوالات
حب سٹی: اللہ آباد ٹاؤن، باب بلوچستان، گڈانی بس اسٹاپ، نوین وائن اسٹور کے اطراف سمیت حب شہر کے مختلف گلی محلوں میں شراب کی مبینہ فروخت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر سرعام CID News کی جانب سے سنگین سوالات اٹھا دیے گئے ہیں۔
سرعام CID News کے چیئرمین میاں محمد منشا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حب شہر کے اندر آبادی کے تناسب کے مقابلے میں وائن اسٹورز، شراب کے مراکز اور مبینہ فروخت کے مقامات میں مسلسل اضافہ تشویشناک ہے، جبکہ مختلف ذرائع سے یہ اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں کہ شراب کی مبینہ فروخت مخصوص دکانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ گلی کوچوں تک پہنچ چکی ہے۔
میاں محمد منشا کا کہنا ہے کہ اگر کسی وائن اسٹور کو شراب فروخت کرنے کا قانونی لائسنس جاری کیا جاتا ہے تو اس لائسنس کے ساتھ مخصوص شرائط بھی عائد ہوتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا متعلقہ محکمہ ایکسائز باقاعدگی سے ان دکانوں کے لائسنس، ریکارڈ، اوقاتِ کار، فروخت کی مقدار اور خریداروں کی قانونی اہلیت کی جانچ کر رہا ہے؟
انہوں نے کہا کہ اگر شراب کی فروخت صرف قانون کے تحت مجاز افراد اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق ہونی ہے تو پھر یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ مسلمان شہریوں کو شراب کی فروخت روکنے کے لیے عملی طور پر کیا نگرانی کا نظام موجود ہے؟
میاں محمد منشا نے مزید سوال اٹھایا کہ کیا شراب فروخت کرنے والے مراکز میں قانون کے مطابق شناخت اور اجازت نامے کی جانچ کی جاتی ہے؟ کیا ہر خریدار کو مقررہ مقدار سے زیادہ شراب فروخت نہ کرنے کے لیے محکمہ ایکسائز نے کوئی مؤثر نگرانی کا نظام قائم کر رکھا ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ اگر ان قوانین اور لائسنس کی شرائط پر مؤثر عملدرآمد ہو رہا ہے تو پھر حب شہر میں گلی گلی شراب کی مبینہ فروخت کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔
سرعام CID News کے چیئرمین میاں محمد منشا نے کہا کہ معاملہ کسی مخصوص مذہبی یا برادری کے خلاف نہیں بلکہ قانون کی عملداری اور نوجوان نسل کے تحفظ کا ہے۔ رہائشی آبادیوں اور تعلیمی اداروں کے قریب شراب کی مبینہ دستیابی سے بچوں اور نوجوانوں پر پڑنے والے ممکنہ منفی اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ نارکوٹکس بلوچستان اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ حب سٹی میں موجود تمام وائن اسٹورز اور شراب فروخت کرنے والے مجاز مراکز کا ریکارڈ چیک کیا جائے، لائسنسوں کی مکمل جانچ پڑتال کی جائے اور جہاں بھی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی ثابت ہو وہاں فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
میاں محمد منشا نے کہا کہ اگر کسی وائن اسٹور سے غیرمجاز افراد کو شراب فروخت کرنے، مقررہ مقدار سے زیادہ شراب دینے، مقررہ اوقات کی خلاف ورزی یا کسی دوسرے قانونی ضابطے کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ایسے لائسنسوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔
سرعام CID News کا سوال ہے کہ اگر قانون موجود ہے تو اس پر عملدرآمد کہاں ہے؟
محکمہ ایکسائز اینڈ نارکوٹکس سے مطالبہ ہے کہ حب شہر میں شراب کی مبینہ فروخت کے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے شفاف تحقیقات کی جائیں اور تحقیقات کے نتائج عوام کے سامنے لائے جائیں۔
سرعام CID News اس معاملے پر اپنی صحافتی ذمہ داری کے تحت متعلقہ محکمہ ایکسائز، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ وائن اسٹورز کا مؤقف بھی حاصل کرے گا تاکہ معاملے کے تمام پہلو عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں