پاک فوج پاکستان کا وہ واحد ادارہ ہے ہے جہاں میرٹ کا نظام موجود ہے جس کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ پاک فوج میں شمولیت کرنا ہر ایک کے لیے یکساں ہے چاہے وہ پاکستان کے امیر ترین شخص کا بیٹا یا بیٹی ہے یا پاکستان کے غریب ترین گھرانے سے تعلق رکھنے والا نوجوان ہے میرٹ کا نظام دونوں کے لیے یکساں ہے۔ کسی کو پاک فوج میں شمولیت کے وقت سفارش یا رشوت کے مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا بلکہ انھیں ایک مروجہ طریقہ کار اور ٹیسٹ دے کر پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنا پڑتی ہے۔ وہ ٹیسٹ یا مروجہ طریقہ کار ایک صنعتکار، جاگیردار، کاروباری، رئیس کے بیٹے کے لیے بھی ویسا ہی جیسا کسی غریب ریڑھی والے، ٹانگے والے عام دکاندار کے بیٹے کے لیے ہے جسے ان میں سے کوئی بھی پاس کر کے پاک فوج میں شامل ہو سکتا ہے۔ یہی پاک فوج کی خوبی یا خاصیت ہے جو اسے دیگر اداروں سے ممتاز کرتی ہے۔
پاک فوج کی تاریخ میں کئی ایسے سپہ سالار گزرے ہیں جو ایک عام گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جو پاک فوج میں اپنی محنت اور قابلیت کے بل پر اعلیٰ منصب تک پہنچے۔ موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل حافظ عاصم منیر بھی اس کی ایک واضح مثال ہیں جو اپنی محنت اور قابلیت کے بل پر ایک عام گھرانے کے فرد ہونے کے باوجود پاک فوج کی کمان کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ پاکستان آرمی ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک خاندان ہے جو اپنے دکھ اور سکھ میں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہتے ہیں۔ میدانِ جنگ ہو یا امن کا ماحول پاک فوج کے جوان اور افسر ہمیشہ یکجان ہوکر اس ملک کی خدمت میں مصروفِ عمل رہتے ہیں۔جنگوں میں پاک فوج کی صلاحیتوں کی تو پوری دنیا متعارف ہے، پاک فوج نے روایتی اور غیر روایتی جنگوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا تو منوایا ہی ہے ساتھ ہی ساتھ ملک کو درپیش قدرتی آفات میں بھی کبھی تنہا نہیں چھوڑا۔ ہر قسم کی ناگہانی آفت اور افراتفری کے عالم میں پاک فوج نے کبھی اپنے ہم وطنوں کو مایوس نہیں کیا اور ہمیشہ سب سے پہلے متاثرین کی امداد کو پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی عوام کو جب بھی کسی آفت کا سامنا ہوا ان کی نگاہیں سب سے پہلے پاک فوج کی جانب اٹھتی ہیں اور پاک فوج عوام کے لیے مسیحا بن جاتی ہے۔
گزشتہ برس پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لینے والے خوفناک سیلاب کے دوران بھی پاک فوج نے عوام کی خدمت کو اولین ترجیح دی اور دہشت گردوں کے حملوں کے باوجود پاک فوج کے جوان سیلاب سے متاثر اپنے بہن بھائیوں کے لیے مشکل حالات کے باوجود مصروف عمل رہے۔ اس سے قبل پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے والی وبا کورونا کے دوران بھی پاک فوج نے پورے ملک میں کیمپس قائم کیے اور حکومت کے ساتھ مل کر اس موذی وبا کے تدارک کے لیے کام کیا۔ الغرض ملک میں کوئی بھی آفت آئی تو پاک فوج نے بنا کسی کے کہے اس آفت کے دوران ملک کی خدمت کے جذبے کے تحت لوگوں کی مدد کی اور انھیں یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ اس مشکل گھڑی میں اکیلے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت سمیت پوری دنیا پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی معترف ہے۔ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں خدمات کے حوالے سے بھی پاک فوج کا نام سرِ فہرست ہے۔ پاک فوج اقوامِ متحدہ کے قیامِ امن کی کوششوں کے حوالے سے خدمات سرانجام دینے والی چھٹی بڑی فوج ہے۔
امن مشنز ہوں، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا سرحدوں کی حفاظت کے دوران شہید ہوجانے والے جوان۔ ان کی قربانیوں کو بھی پاک فوج کبھی فراموش نہیں کرتی۔ اپنے ساتھیوں کی شہادت کے موقع پر چاہے کوئی افسر ہو یا سپاہی ان کے لواحقین کو بھی تنہا نہیں چھوڑتی۔ جس طرح پاک فوج شہداءکے لواحقین کو عزت و تکریم سے نوازتی ہے، ہر تقریب میں ان کا استقبال ایسے ہی کیا جاتا ہے جیسے کسی جنرل، وزیر یا وزیراعظم کا ہوتا ہے۔ ان کے بیوی، بچوں کی دیکھ بھال اور بچوں کی تعلیم کا بہترین بندوبست کیا جاتا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ حالانکہ ہمارے ہمسائے دشمن ملک بھارت میں ایسی کئی ویڈیوز منظرِ عام پر آئیں جن میں شہداءکے وارثین اپنے حقوق اور عزت کے لیے احتجاج کرہے ہوتے ہیں۔لیکن الحمدللہ پاکستان فوج میں آج تک کبھی کوئی ایسا افسوسناک واقع پیش نہیں آیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فوج ایک منظم ادارہ ہے۔
جہاں تک ہمارے حکمرانوں کی اور نام نہاد سیاسی رہنماو¿ں کی بات ہے تو وہ اپنے ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے پاک فوج پر الزام تراشی کرتے ہیں تا کہ اغیار کو خوش کر کے اپنا نام بنا سکیں۔ عوامی خدمت کی بات کریں تو پاک فوج نے نہ تو ان کے ہاتھ روکے ہیں کہ یہ لوگوں کو صحت، تعلیم کی سہولیات فراہم نہ کریں اور نہ ہی پاک فوج نے ان کے ہاتھ روکے ہیں کہ یہ مہنگائی کو کنٹرول نہ کریں لیکن ان رہنماو¿ں سے جب عوامی مسائل کی بات کی جاتی ہے تو یہ الزام تراشی شروع کر دیتے ہیں اور اپناملبہ پاک فوج پر گرانے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔ صرف اپنی سیاست چمکانے اور غیر ملکی میڈیا کی زینت بننے کے لیے پاک فوج خلاف پراپیگنڈا جاری رکھے ہوئے ہیں۔میری اس کالم کے ذریعے تمام سیاسی رہنماو¿ں اور ان کے حواریوں سے بس اتنی سی گزارش ہے کہ کہ بس کردواپنی گندی سیاست میں پاک فوج اور اس کے شہداءکی تذلیل نہ کرو۔ پاک فوج سمیت تمام اداروں کو اپنا کام کرنے دیں اپنا گناہ اداروں کے سر پر مت پھینکیں۔ عوامی خدمت اور فلاح و بہبود پر توجہ دیں نا کہ دشمن کا آلہ کار بنیں۔ پاکستانی عوام کل بھی اپنی افواج کے ساتھ کھڑے تھے اور آئندہ بھی کھڑے رہیں گے۔
پاکستان زندہ باد
آئی ایس آئی زندہ باد