سوشل میڈیا پر ریاست مخالف بیانیہ: حقیقت اور ذمہ داری کا توازن انٹرنیشنل میڈیا گروپ کے چیئرمین میاں محمد منشاء نے سوشل میڈیا پر ان تبصروں کا جواب دیا ہے جن میں سوات سیلابی صورتحال پر ریاست کو مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر زیرِ گردش تصویریں خود گواہ ہیں کہ ریاستی ادارے، بالخصوص افواجِ پاکستان اور ریسکیو ٹیمیں دن رات امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ مشکل وقت میں ریاست نے لاشیں نکالنے، زندہ افراد کو بچانے اور متاثرین کو ریلیف دینے کے لیے بھرپور کارروائیاں کی ہیں، اور یہ عمل اب بھی جاری ہے۔

پاکستان کی عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، اور مسلسل بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ایک عام مزدور، جو دن رات محنت کرتا ہے، جس کی ماہانہ تنخواہ صرف 35,000 روپے ہے، جب وہ اپنی محنت کی کمائی بینک سے نکالتا ہے تو اب اس پر بھی نیا ٹیکس لگانے کی بات ہو رہی ہے۔ کیا یہ انصاف ہے؟ کیا اپنی ہی کمائی نکالنا جرم بن چکا ہے؟

افواجِ پاکستان صرف ایک عسکری قوت نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے، ایک جذبہ ہے، جو حب الوطنی، قربانی اور وفا کا استعارہ ہے۔ خواہ وہ بارڈر پر تعینات جوان ہوں یا دہشت گردی کے خلاف محاذ پر لڑنے والے سپاہی، ہر ایک کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہماری فوج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے، جس کا وقار اور عزت دنیا بھر میں تسلیم کی جاتی ہے

“یہ صرف ایک تحریر نہیں، ایک سلام ہے اُن بہادروں کے نام جو سندھ پولیس کی وردی پہن کر دن رات ہماری حفاظت کرتے ہیں۔ وہ سپاہی جو خطرے میں بھی ڈٹا رہتا ہے، جو ماں، بیوی اور بچوں کو چھوڑ کر صرف اپنے فرض کو ترجیح دیتا ہے، وہ ہمارا اصل ہیرو ہے۔ میں، میاں محمد منشاء، اپنی صحافت کے ذریعے اُس قربانی، وفاداری اور حوصلے کو سلام پیش کرتا ہوں۔ تم اکیلے نہیں ہو، تم پر فخر ہے۔ یہ قوم تمہیں سلام کرتی ہے، اور میں تمہاری کہانی دنیا تک پہنچاتا رہوں گا۔”

پاک فوج: تحفظِ وطن کی عظیم مثال تحریر: میاں محمد منشاء، چیئرمین انٹرنیشنل میڈیا گروپ پاکستان ایک خوبصورت، قدرتی وسائل سے مالامال اور عظیم روایات کا حامل ملک ہے۔ مگر اس ملک کی سالمیت، امن اور خودمختاری کے پیچھے ایک ایسی طاقت کارفرما ہے جس کا نام ہے: افواجِ پاکستان۔ ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آج ہم جو سکون سے زندگی گزار رہے ہیں، وہ کس کی قربانیوں کا نتیجہ ہے؟

یومِ صحافت: مثبت صحافت کی ترجمانی اور میاں محمد منشاء کی عوامی خدمات ہر سال 3 مئی کو دنیا بھر میں یومِ صحافت منایا جاتا ہے۔ یہ دن صحافت کی آزادی، صحافیوں کی قربانیوں اور میڈیا کی سماجی ذمہ داریوں کو اجاگر کرنے کا دن ہے۔ اس دن کا مقصد محض آزادیٔ اظہار کا جشن منانا نہیں، بلکہ ان اداروں اور شخصیات کی خدمات کو سراہنا بھی ہے

ذرائع کا کہنا ہے کہ جاری کیے گئے پرمٹ پر سرکاری فیس انتہائی کم لکھی جاتی ہے، جبکہ درپردہ افسران لاکھوں روپے کی غیرقانونی کمائی کرتے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف قیمتی جنگلات کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ قومی خزانے کو بھی شدید مالی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف لسبیلہ بلکہ مجموعی طور پر پورے ملک کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے ماحول میں آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلیاں اور قدرتی آفات میں اضافہ متوقع ہے۔ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی عوامی صحت کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔

جب کبھی بھی وطن عزیز کو خطرہ درپیش ہوتا ہے، تو ایک طاقت ور دیوار بن کر جو ادارے ہمارے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں، وہ ہمارے دفاعی ادارے ہیں — پاک فوج، پاک بحریہ، پاک فضائیہ، رینجرز، ایف سی، آئی ایس آئی، اور دیگر سیکیورٹی ادارے جو دن رات اس مادرِ وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر ڈٹے ہوتے ہیں