11

موچکو چیک پوسٹ سے متعلق الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں: میاں محمد منشا کراچی: چیئرمین انٹرنیشنل میڈیا گروپ میاں محمد منشا نے موچکو چیک پوسٹ کے انچارج اے ایس آئی محسن شاہ سمیت پولیس افسران و اہلکاروں پر اسمگلنگ کی سرپرستی اور مبینہ طور پر بھتہ وصولی کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے

موچکو چیک پوسٹ سے متعلق الزامات کی تردید
موچکو چیک پوسٹ سے متعلق الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں: میاں محمد منشا
کراچی: چیئرمین انٹرنیشنل میڈیا گروپ میاں محمد منشا نے موچکو چیک پوسٹ کے انچارج اے ایس آئی محسن شاہ سمیت پولیس افسران و اہلکاروں پر اسمگلنگ کی سرپرستی اور مبینہ طور پر بھتہ وصولی کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذکورہ خبر میں عائد کیے گئے الزامات بے بنیاد، غیر مصدقہ اور حقائق کے منافی ہیں۔
میاں محمد منشا نے کہا کہ اے ایس آئی محسن شاہ ایک ایماندار، فرض شناس اور ذمہ دار پولیس افسر ہیں جو اپنی ڈیوٹی پوری ذمہ داری اور دیانت داری سے انجام دے رہے ہیں۔ ان کے خلاف جس انداز میں سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، ان کی کوئی حقیقت نہیں اور نہ ہی ان الزامات کو ثابت کرنے کے لیے کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موچکو چیک پوسٹ ایک انتہائی حساس مقام پر واقع ہے جہاں غیر قانونی نقل و حرکت، منشیات، نان کسٹم اشیاء اور دیگر ممنوعہ سامان کی روک تھام کے لیے سخت نگرانی اور چیکنگ کا نظام موجود ہے۔
موچکو چیک پوسٹ تک پہنچنے سے پہلے رینجرز کی چیک پوسٹ، اس کے بعد کسٹمز کی چیک پوسٹ اور پھر اینٹی نارکوٹکس فورس کی چیک پوسٹ موجود ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ پولیس اہلکار بھی اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔ اس پورے روٹ سے گزرنے والی ٹرانسپورٹ متعدد اداروں کی سخت چیکنگ، نگرانی اور سکیورٹی کے مراحل سے گزر کر آگے جاتی ہے۔
میاں محمد منشا نے سوال اٹھایا کہ جب ایک ہی روٹ پر رینجرز، کسٹمز، اینٹی نارکوٹکس اور پولیس سمیت متعلقہ اداروں کی چیکنگ موجود ہو اور ٹرانسپورٹ کو مختلف مقامات پر روک کر چیک کیا جاتا ہو تو کسی ایک پولیس افسر پر یہ الزام عائد کرنا کہ وہ مبینہ طور پر رقم لے کر اسمگلنگ کی اجازت دیتا ہے، ایک انتہائی سنگین دعویٰ ہے جس کے لیے ٹھوس اور ناقابلِ تردید ثبوت ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص یا ٹرانسپورٹر کے خلاف اسمگلنگ کا کوئی ثبوت موجود ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، گاڑی یا سامان پکڑا جائے، مقدمہ درج کیا جائے اور مکمل ریکارڈ سامنے لایا جائے۔ محض نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کسی پولیس افسر پر لاکھوں روپے وصول کرنے یا اسمگلنگ کی اجازت دینے کے الزامات عائد کرنا صحافتی اصولوں کے منافی ہے۔
میاں محمد منشا نے مزید کہا کہ اے ایس آئی محسن شاہ کے حوالے سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ وہ غیر قانونی سرگرمیوں کی سرپرستی کر رہے ہیں، حالانکہ پولیس کارروائیوں کا ریکارڈ متعلقہ افسران کے پاس موجود ہے۔ جن افراد کے خلاف ماضی میں کارروائیاں کی گئیں، ان کے مقدمات اور ایف آئی آرز کا ریکارڈ متعلقہ حکام خود چیک کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گٹکا، ماوا، منشیات اور دیگر غیر قانونی دھندوں کے خلاف پولیس کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اور موچکو پولیس بھی اسی پالیسی کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔ اگر کسی غیر قانونی سرگرمی کے حوالے سے اطلاع ملتی ہے تو پولیس کو چاہیے کہ قانون کے مطابق کارروائی کرے، اور یہی قانونی طریقہ کار ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بعض افراد واٹس ایپ گروپس یا ذاتی واٹس ایپ نمبروں کے ذریعے خود کو صحافی ظاہر کرتے ہوئے سرکاری اداروں اور افسران کے خلاف سنگین الزامات پر مبنی خبریں چلاتے ہیں۔ صحافت کا مقصد بلیک میلنگ، کردار کشی یا کسی سے ذاتی مفاد حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کو درست اور تصدیق شدہ معلومات فراہم کرنا ہے۔
میاں محمد منشا نے کہا کہ اگر کسی شخص کے پاس کسی پولیس افسر کے خلاف کوئی مستند ثبوت موجود ہے تو وہ متعلقہ اعلیٰ پولیس حکام، اینٹی کرپشن یا دیگر مجاز اداروں کے سامنے پیش کرے۔ ادارے تحقیقات کریں اور اگر الزام ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ لیکن بغیر ثبوت کسی افسر کو اسمگلنگ یا رشوت خوری میں ملوث قرار دینا قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی کراچی سمیت تمام اعلیٰ افسران کو چاہیے کہ ایسی خبروں کا نوٹس لیتے وقت پہلے زمینی حقائق، پولیس ریکارڈ اور متعلقہ چیک پوسٹوں پر تعینات دیگر اداروں کی رپورٹس بھی سامنے رکھیں۔
چیئرمین انٹرنیشنل میڈیا گروپ نے کہا کہ اگر موچکو سے کسی ٹرانسپورٹ کے ذریعے اسمگلنگ کی اجازت دینے کا الزام لگایا جاتا ہے تو اس سوال کا جواب بھی ضروری ہے کہ وہ ٹرانسپورٹ رینجرز، کسٹمز اور اینٹی نارکوٹکس کی چیکنگ سے گزرنے کے بعد کیسے اور کس طریقے سے غیر قانونی سامان کے ساتھ آگے پہنچتی ہے۔ اس لیے کسی ایک افسر کو ذمہ دار ٹھہرانے سے پہلے پورے سکیورٹی اور چیکنگ نظام کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محسن شاہ کی ایمانداری اور پولیس سروس میں کارکردگی کا ریکارڈ متعلقہ افسران کے سامنے موجود ہے۔ اعلیٰ حکام چاہیں تو ان کی تعیناتی کے دوران ہونے والی کارروائیوں، درج مقدمات اور پکڑے جانے والے ملزمان کا مکمل ریکارڈ چیک کر سکتے ہیں۔
میاں محمد منشا نے مزید کہا کہ موچکو پولیس اور متعلقہ تھانے کی نگرانی میں غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور پولیس اہلکار چوبیس گھنٹے الرٹ رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ کسی بھی اہلکار یا افسر کے خلاف شکایت ہو تو محکمانہ طریقہ کار کے مطابق تحقیقات ہونی چاہئیں۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل میڈیا گروپ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی یا بدعنوانی کا دفاع نہیں کرتا۔ اگر کسی افسر کے خلاف مستند ثبوت موجود ہو تو ہم بھی قانون کے مطابق کارروائی کے حامی ہیں، تاہم بے بنیاد اور غیر مصدقہ الزامات کی بنیاد پر کسی ایماندار افسر کی کردار کشی کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔
چیئرمین انٹرنیشنل میڈیا گروپ نے کہا کہ ایسے عناصر جو صرف واٹس ایپ پر خبریں چلا کر خود کو صحافی ظاہر کرتے ہیں اور بغیر تصدیق سرکاری افسران، پولیس اہلکاروں یا دیگر اداروں کے خلاف الزامات لگاتے ہیں، ان کے طرزِ عمل کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے افسرانِ بالا سے مطالبہ کیا کہ اگر کوئی شخص مسلسل غیر مصدقہ الزامات، کردار کشی یا بلیک میلنگ کے ذریعے سرکاری اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے خلاف قانون اور ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔
میاں محمد منشا نے واضح کیا کہ صحافت اور بلیک میلنگ میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔ کسی بھی صحافی کو خبر چلانے سے پہلے متعلقہ فریق کا مؤقف لینا، شواہد کی تصدیق کرنا اور خبر کو غیر جانب دار انداز میں پیش کرنا چاہیے۔
آخر میں چیئرمین انٹرنیشنل میڈیا گروپ میاں محمد منشا نے کہا کہ انٹرنیشنل میڈیا گروپ مثبت، ذمہ دار اور حقائق پر مبنی صحافت کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا اور کسی بھی ایماندار سرکاری افسر کی بلاجواز کردار کشی کے خلاف آواز بلند کرتا رہے گا۔
جاری کردہ:
میاں محمد منشا
چیئرمین، انٹرنیشنل میڈیا گروپ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں