*حب چوکی اور سندھ کے بارڈر پر غیر ملکی افغانیوں کی آمدورفت میں روز بروز اضافہ*
*موچکو چیک پوسٹ اہلکار پانچ سو روپے پر ہیڈ بارڈر پار کرانے کے چارج کرنے لگی باوثوق ذرائع*
*ملک میں جاری حالیہ دہشت گردی کی لہر اور موچکو چیک پوسٹ کی جانب سے مسلسل غفلت کا مظاہرہ کسی بھی خطرناک المناک واقعے کو جنم دے سکتا ہے*
*تفصیلات کے مطابق باوثوق ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے حب چوکی اور سندھ کے بارڈر پر موچھ کو چیک پوسٹ کے کرپٹ اہلکاروں کی جانب سے ندی کے راستے افغانیوں کو غیر قانونی طور پر پیسے لے کر بارڈر پار کروانا دہشتگردوں کی سہولت کاری کے متعردف ہیں صبح سویرے اور رات کے پہر کوئی بھی دہشت گرد یا غیر ملکی افغانی موچکو چیک پوسٹ کے اہلکاروں کو پیسے دے کر بارڈر پار کر سکتا ہے جو کہ ملک میں جاری حالیہ دہشتگردی کی لہر میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں فورسز کے اعلی افسران کو مو چکو چیک پوسٹ کی پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے پیسوں کے عوض کسی کو بھی بارڈر پار کروانا ایک غیر قانونی فعل ہے اور اس سے ملک کو نقصان ہونے کا اندیشہ ہے آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی سندھ، ایس ایس پی کیماڑی،ایس ایچ او تھانہ موچکو ،ڈی جی رینجرز سندھ فوری طور پر اس بات کا نوٹس لیں کہ کس طرح افغانیوں اور غیر قانونی لوگوں کو پیسوں کے ایوز رکشوں کے ذریعے ندی کے راستے سندھ میں داخلے کی اجازت دی جا رہی ہے اگر کراچی شہر میں کوئی دہشت گردانہ کارروائی خدانخواستہ ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی یقینا مکمل طور پر موچکو چیک پوسٹ پر ہوگی کسی بھی قسم کے غیر قانونی لوگو افغانیوں کو بارڈر پار کروانا قطعن صحیح نہیں ہیں عوام اپنے ملک کی ایجنسیوں سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ ان تمام تر معاملات پر فوری ایکشن لیتے ہوئے بارڈر پر مستحکم پالیسی بنائے تاکہ کراچی شہر میں کسی بھی قسم کی تہذیب کاری نہ ہو سکے*