کیا وزارتِ آئی ٹی عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو گئی؟
رپورٹ: انٹرنیشنل میڈیا گروپ
پاکستان میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کا بنیادی مقصد عوام کو جدید اور سستی مواصلاتی سہولیات فراہم کرنا، انٹرنیٹ کے نظام کو بہتر بنانا، موبائل سروسز کے معیار کو بلند کرنا، ڈیجیٹل ترقی کو فروغ دینا اور صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ عوام کی توقع ہوتی ہے کہ وزیرِ آئی ٹی ایسے اقدامات کریں جن سے عام شہری کو ریلیف ملے اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی آسان ہو۔
حالیہ دنوں میں وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شازہ فاطمہ خواجہ کی جانب سے ٹیلی کمیونیکیشن قوانین میں مجوزہ ترامیم اور انفراسٹرکچر سے متعلق اقدامات پر ملک بھر میں بحث جاری ہے۔ بعض حلقے ان اقدامات کو جدید ٹیکنالوجی اور نیٹ ورک کی توسیع کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں جبکہ بعض عوامی و سماجی حلقے نجی املاک اور شہری حقوق کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔
انٹرنیشنل میڈیا گروپ کے چیئرمین محمد منشا نے اس حوالے سے کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ وزارتِ آئی ٹی کی ترجیح عام شہری کو ریلیف فراہم کرنا ہے یا ایسے قوانین متعارف کروانا جن سے عوام کے اندر اپنے بنیادی حقوق اور نجی ملکیت کے حوالے سے خدشات پیدا ہوں۔
محمد منشا نے سوال کیا کہ اگر وزارتِ آئی ٹی کا مقصد عوام کی خدمت ہے تو پھر آج تک عوام کو سستے انٹرنیٹ پیکجز، کم نرخوں والی موبائل سروسز اور بہتر سہولیات کیوں فراہم نہیں کی جا سکیں؟ ملک کی بڑی موبائل کمپنیاں جاز، زونگ، یوفون اور ٹیلی نار وقتاً فوقتاً اپنے پیکجز مہنگے کر رہی ہیں جبکہ صارفین کی جیب پر مسلسل بوجھ بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ایک طالب علم، فری لانسر، صحافی، تاجر اور عام شہری اپنی تعلیم، روزگار اور رابطوں کے لیے انٹرنیٹ پر انحصار کرتا ہے۔ ایسے میں وزارتِ آئی ٹی سے یہ توقع تھی کہ وہ موبائل کمپنیوں کے ساتھ بیٹھ کر عوام کے لیے سستے انٹرنیٹ پیکجز متعارف کرواتی، کال اور ڈیٹا پیکجز کی قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کرتی اور صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بناتی۔
محمد منشا کے مطابق عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا وزارتِ آئی ٹی نے کبھی موبائل کمپنیوں کو قیمتیں کم کرنے یا عوام کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر ہدایات جاری کیں؟ کیا عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے کوئی واضح حکمت عملی اختیار کی گئی؟ اگر ایسے اقدامات ہوئے ہیں تو ان کے نتائج عوام کے سامنے کیوں نظر نہیں آ رہے؟
انہوں نے مزید کہا کہ ترقی اور ٹیکنالوجی کی مخالفت کوئی نہیں کرتا، لیکن ہر ترقیاتی منصوبے میں عوامی مفاد، شہری حقوق اور نجی ملکیت کے تحفظ کو اولین ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ اگر کسی قانون یا پالیسی کے نتیجے میں عوام کے اندر بے چینی، خوف یا تحفظات پیدا ہوتے ہیں تو حکومت اور متعلقہ وزارت پر لازم ہے کہ وہ عوام کو اعتماد میں لے اور تمام ابہامات دور کرے۔
انٹرنیشنل میڈیا گروپ کے چیئرمین محمد منشا کا کہنا ہے کہ وزارتِ آئی ٹی کا اصل امتحان عوام کو ریلیف دینا، انٹرنیٹ کو سستا بنانا، موبائل سروسز کے معیار کو بہتر کرنا اور صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے اور مستقبل میں ان کے لیے کیا منصوبہ بندی موجود ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزارتِ آئی ٹی عوامی مسائل کو ترجیح دے، موبائل کمپنیوں کی جانب سے مسلسل بڑھائی جانے والی قیمتوں کا نوٹس لے، سستے انٹرنیٹ پیکجز متعارف کروانے کے لیے اقدامات کرے اور ہر ایسی پالیسی پر عوامی مشاورت کو یقینی بنائے جس کا براہِ راست اثر عام شہری پر پڑتا ہو۔
عوام کی نظریں اب وزارتِ آئی ٹی پر ہیں اور وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ انہیں مہنگی موبائل سروسز اور انٹرنیٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے کب اور کیسے ریلیف ملے گا۔
ہیڈ لائن: “عوام کو سستا انٹرنیٹ کب ملے گا؟ وزارتِ آئی ٹی سے اہم سوالات”
سب ہیڈ لائن: “محمد منشا کا مؤقف: موبائل پیکجز مہنگے، عوام ریلیف سے محروم، وزارت اپنا کردار واضح کرے”
22