موبائل کمپنیوں کی من مانیاں، عوام پر مہنگائی کا ایک اور وار
پاکستان میں جہاں پہلے ہی مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، وہیں موبائل فون کمپنیاں بھی صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے کہ چند ماہ کے اندر ہی مختلف انٹرنیٹ اور کال پیکجز کی قیمتوں میں سینکڑوں روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ جو ماہانہ پیکج چند ماہ قبل تقریباً 2700 روپے میں دستیاب تھا، آج وہ 3000 سے 3100 روپے یا اس سے زائد قیمت پر فروخت کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسی کون سی غیر معمولی سہولت دی جا رہی ہے جس کی بنیاد پر ہر چند ماہ بعد قیمتوں میں اضافہ کر دیا جاتا ہے؟
عوام کا مؤقف ہے کہ ایک طرف ملک میں آٹا، چینی، گھی، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، دوسری جانب موبائل کمپنیاں بھی صارفین کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے میں مصروف ہیں۔ لاکھوں طلبہ، فری لانسرز، آن لائن کاروبار کرنے والے افراد اور عام صارفین انٹرنیٹ پر انحصار کرتے ہیں، ایسے میں پیکجز کی قیمتوں میں بار بار اضافہ ان کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
شہریوں نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA)، وزارت آئی ٹی اور متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ موبائل کمپنیوں کی جانب سے بار بار کیے جانے والے اضافوں کا فوری نوٹس لیا جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر کمپنیوں کو قیمتیں بڑھانے کی اجازت دی جاتی ہے تو سروس کے معیار، انٹرنیٹ سپیڈ اور صارفین کو دی جانے والی سہولیات کا بھی سخت جائزہ لیا جانا چاہیے۔
عوامی حلقوں کے مطابق مہنگائی کے اس دور میں موبائل کمپنیوں کی جانب سے ہر چند ماہ بعد سینکڑوں روپے کا اضافہ صارفین کا معاشی استحصال ہے، جسے فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔
70