211

دبئی(عارف محمود قریشی اوورسیز بیورو) میرا دبئی کا رہائشی کرایہ آپ کی مات مار دیتا ہے اور کرایہ داروں کو وہاں لے جاتا ہےجہاں ان کے سوچنےسمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے کہ وہ ہر ماہ کیا ادا کریں

دبئی(عارف محمود قریشی اوورسیز بیورو) میرا دبئی کا رہائشی کرایہ آپ کی مات مار دیتا ہے اور کرایہ داروں کو وہاں لے جاتا ہےجہاں ان کے سوچنےسمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے کہ وہ ہر ماہ کیا ادا کریں یا ضروریات زندگی۔اور یہ دیکھتے رہیں کہ وہ کس پارٹنرکے ساتھ رہیں اور پھر انہیں پوچھیں کہ ان کو کیا پسند ہے اور کیا نہیں۔ایک پراپرٹی ایجنٹ نے دبئی مرینا شہر کے شور اور ہجوم پر اس کا رُخ موڑ لیا اور شہر کے مضافاتی علاقوں میں چلی گئی ہے۔31 سالہ ہندوستانی دیویا جِین ٹاؤن اسکوائر میں دو بیڈ روم والے اپارٹمنٹ کے لیے ستر ہزار درہم ادا کرتی ہے جسے وہ اپنے بوائے فرینڈ اور اپنے بھائی کے ساتھ بانٹتی ہے۔وہ چار بنک کے چیکس پر کرایہ ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ امارات کے مضافات میں پرسکون زندگی سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔دیویا جین نےمیڈیا نمائندگان کو بتایا کہ یہ عالیشان اپارٹمنٹ جو بہترین سجا ہوا ہےاس میں رہنا ہمارے ثواب بھی ہے اور عذاب بھی کیونکہ اس کا سالانہ کرایہ حدود کو کراس کرتا ہےاور ہمارے لیے وبال جان ہے۔صحافیوں نے جب ان سے ادھر رہنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ پہلی وجہ یہ ہےکہ میں اپنے دفتر کے قریب کہیں تلاش کرنا چاہتی تھی جو موٹر سٹی میں ہے اور اس سے پہلے ہم دبئی مرینا میں رہ رہے تھے اور میں ہجوم اور تمام شور سے تھک گئی تھی لہذا میں کہیں زیادہ آرام دہ اور پرسکون جگہ چاہتی تھی اس لیے یہ ضروری تھا کہ کوئی پرسکون جگہ تلاش کی جائے جہاں اچھی سہولیات بھی ہوں۔اگرچہ یہاں کافی پرسکون ہےاور ہمارے پاس ابھی بھی ہماری دہلیز پر بہت سارے کیفے اور ریستوران ہیں۔ہمارے ساتھ ہی ایک بڑا پارک ہے اور بچوں کے لیے ایک کھیل کا میدان ہے جس میں مختلف رائیڈز بھی موجود ہیں اس لیے وہاں بھی ایک بہترین خاندانی ماحول ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں