220

بریکنیگ نیوز آمدن اٹھنی خرچہ روپیہ اورنج لائن میٹرو ٹرین خسارے سے دو چار مسافروں سے کرایہ کی مد میں28 کروڑ کی آمدن ہوئی جبکہ 35 کروڑ روپے کی بجلی استعمال کر لی گئی ہے

آمدن اٹھنی خرچہ روپیہ
اورنج لائن میٹرو ٹرین خسارے سے دو چار

مسافروں سے کرایہ کی مد میں28 کروڑ کی آمدن ہوئی جبکہ 35 کروڑ روپے کی بجلی استعمال کر لی گئی ہے

25 اکتوبر 2020 سے لے تین فروری 2021 تک اورنج لائن میٹرو ٹرین پر 70 لاکھ پانچ ہزار 894 مسافروں نے سفر کیا،
25 اکتوبر سے 31 اکتوبر تک اورنج لائن پر 5 لاکھ 29 ہزار 680 مسافروں نے سفر کیا،
نومبر میں 20 لاکھ 60 ہزار 62،
دسمبر میں 21 لاکھ 55 ہزار 36 جبکہ جنوری 2021 میں 22 لاکھ61 ہزار ایک سو سولہ مسافروں نے اورنج لائن ٹرین سے سفر کیا
جس سے اورنج لائن میٹرو ٹرین کو کرایہ کی مد میں 28 کروڑ 23 لاکھ 576 روپے آمدن ہوئی۔

اورنج لائن ٹرین نے جولائی سے دوجنوری2021 تک 35 کروڑ 35 لاکھ 39 ہزار837 روپے کی بجلی استعمال کی ۔
آمدن اور خرچ کے خراب توازن کے باعث اورنج لائن میٹرو ٹرین کا حال بھی ملک کے باقی اداروں جیسا ہے

ڈاکٹر سلمان شاہ کو دی جانے والی بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ اورنج ٹرین کے کراے میں 10 روپے کمی ہونی چاہیے ۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ اورنج لائن ٹرین پر مسافروں کی تعداد بڑھنے کی بجائے کم ہورہی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر مسافروں کے طے کردہ اہداف حاصل نہیں ہو پا رہے

واضح رہے کہ پنجاب کے میٹرو بس سروسز اور، اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے پاکستان کی پبلک ٹرانسپورٹ کے مہنگے ترین بڑے خسارے والے منصوبے بن گئے ہیں۔
دونوں منصوبے صوبائی خزانے پر بڑا بوجھ بن کر سامنے آئے ہیں۔میٹرو بس سروسز، اورنج لائن میٹرو ٹرین کو فعال رکھنے میں سالانہ 18ارب کانقصان برداشت کرنا ہوگا
میٹرو بس سروس اورمیٹرو ٹرین کی آمدن سے ساڑھے 5ارب وصول ہونگے،
جبکہ دونوں میگا منصوبوں کو فعال رکھنے کے اخراجات 23 ارب سے زائدتک پہنچ چکے ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں