351

جرمنی میں سالانہ کروڑوں نر چوزوں کی تلفی آئندہ قابل سزا جرم

جرمنی میں دنیا کا پہلا ملک ہو گا، جہاں اگلے سال سے ملکی پولٹری فارموں میں سالانہ کروڑوں نر چوزوں کی ’ظالمانہ‘ تلفی قانوناﹰ ایک قابل سزا جرم ہو گی۔ اس بارے میں جرمن کابینہ نے ایک نئے مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے۔جرمنی بھر میں ہر سال ہزارہا مرغی خانوں میں تقریباﹰ 45 ملین یا ساڑھے چار کروڑ کے قریب نر چوزے پیدائش کے فوراﹰ بعد اس لیے تلف کر دیے جاتے ہیں کہ نر ہونے کی وجہ سے وہ نا تو بڑے ہو کر انڈے دے سکتے ہیں اور نا ہی پولٹری کی صنعت میں کاروباری حوالے سے وہ گوشت کی پیداوار کے لیے اتنے منافع بخش ثابت ہوتے ہیں جتنی کہ مرغیاں۔’گوشت خوری انسانوں کو بے گھری دیتی ہے‘نومولود نر چوزوں کی ‘شریڈنگ‘ایسے نر چوزوں کو تلف کرنے کے لیے انہیں عام طور پر مشینوں میں ڈال کر کچل دیا جاتا ہے اور ان سے وہ پولٹری فیڈ بنائی جاتی ہے، جو بعد میں اکثر مرغیوں اور چوزوں ہی کو کھانے کے لیے دی جاتی ہے۔جانوروں کے حقوق کے لیے اور ان پر ظلم کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے والے کارکن طویل عرصے سے اس عمل کو ایک ‘ظالمانہ طریقہ‘ اور ایک ‘غیر اخلاقی حرکتت‘ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف قانون سازی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔کم گوشت کھانا ماحول دوستی ہے، لیکن یہ بات اتنی درست بھی نہیںکابینہ نے مسودہ قانون کی منظوری دے دیاب وفاقی جرمن کابینہ نے پولٹری فارمنگ کے شعبے میں اس ‘متنازعہ‘ عمل کی روک تھام کے لیے باقاعدہ قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت اگلے برس کے شروع میں پورے ملک میں نر چوزوں کو ان کی پیدائش کے فوراﹰ بعد تلف کرنا قانوناﹰ ایک قابل سزا جرم ہو گا۔ایک اور جرمن مذبح خانہ کووڈ 19 کے سبب بندجرمن پولیس کا مذبح خانوں پر چھاپہاس بارے میں جرمن کابینہ نے آج بدھ بیس جنوری کے روز ایک مسودہ قانون کی منظوری بھی دے دی۔ اہم بات یہ ہے کہ جرمنی اس قانون سازی کے بعد دنیا کا وہ پہلا ملک ہو گا، جہاں چوزوں کا انڈوں سے نکلنے کے کچھ ہی دیر بعد اس طرح تلف کیا جانا قانونی طور پر ایک جرم ہو گا۔قانونی مسودے کی محرک جرمن وزیر زراعتچانسلر میرکل کی قیادت میں وفاقی جرمن کابینہ نے آج جس مسودہ قانون کی منظوری دے دی، اس کی محرک وفاقی وزیر زراعت یُولیا کلوئکنر تھیں۔چوہے کے گوشت کا سالن مرغی سے زیادہ من پسند، لیکن کہاں؟انہوں نے اس بل کی منظوری کے بعد کہا کہ کروڑوں کی تعداد میں ہر سال نر چوزوں کا اس طرح تلف کر دیا جانا ایک ایسا ‘غیر اخلاقی عمل‘ ہے، جسے ختم ہونا چاہیے اور یہ قانون سازی ‘جانوروں کے حقوق کے تحفظ کی کوششوں کو آگے بڑھانے کی طرف ایک بڑا قدم‘ ثابت ہو گی۔’تلف کرنا ہے تو پیدا ہی نا ہونے دیں‘اس مسودہ قانون کے تحت 2022ء کے اوائل سے جرمن مرغی خانوں کے مالکان کے لیے ایسے نر چوزوں کی تلفی ممنوع ہو گی۔کیا صرف سبزی خوری صحت کے لیے نقصان دہ ہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں