105

سندھ کے مختلف علاقوں میں ایک افسوسناک رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں چند نام نہاد صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال کر صرف پولیس کے خلاف یکطرفہ خبریں بنانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اکثر ان کی خبروں کا موضوع صرف گٹکا، ماوا، جوئے اور سٹے کے اڈے ہوتے ہیں، جبکہ معاشرے میں موجود دیگر سنگین مسائل کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

رپورٹ
پیشکش: انٹرنیشنل میڈیا گروپ | ڈیسک سرعام CID نیوز
سندھ کے مختلف علاقوں میں ایک افسوسناک رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے جہاں چند نام نہاد صحافی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو پسِ پشت ڈال کر صرف پولیس کے خلاف یکطرفہ خبریں بنانے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اکثر ان کی خبروں کا موضوع صرف گٹکا، ماوا، جوئے اور سٹے کے اڈے ہوتے ہیں، جبکہ معاشرے میں موجود دیگر سنگین مسائل کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انہی علاقوں میں دیگر سرکاری محکموں کی کارکردگی بھی کئی جگہوں پر نہایت کمزور ہے، مگر حیران کن طور پر ان صحافیوں کی توجہ ان اداروں کی طرف نہیں جاتی۔ اسسٹنٹ کمشنر اور دیگر انتظامی افسران کی کارکردگی پر شاذ و نادر ہی کوئی رپورٹ سامنے آتی ہے کہ انہوں نے اپنے علاقوں میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے۔
اسی طرح فوڈ اتھارٹی جیسے اہم اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اشیائے خوردونوش کے معیار کو یقینی بنائیں۔ مگر مختلف علاقوں میں ناقص، مضر صحت اور غیر معیاری اشیاء کی فروخت کھلے عام جاری ہے۔ شہریوں کی صحت کے ساتھ کھیلنے والے ان عناصر کے خلاف نہ تو مؤثر کارروائی نظر آتی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے میڈیا میں سنجیدہ رپورٹس سامنے آتی ہیں۔
شہری مسائل کی بات کی جائے تو گلیوں اور محلوں میں جگہ جگہ کھلے گٹر، ٹوٹے ہوئے ڈھکن، گندگی کے ڈھیر اور نکاسی آب کا ناقص نظام عوام کے لیے عذاب بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ آوارہ کتوں کی بھرمار بھی شہریوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے، مگر ان مسائل کو اجاگر کرنے کے بجائے کچھ افراد صرف مخصوص موضوعات تک محدود رہتے ہیں۔
اسی طرح کئی علاقوں میں عطائی ڈاکٹروں کا کاروبار زور و شور سے جاری ہے جہاں غیر مستند افراد انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ساتھ دو نمبر میڈیکل اسٹورز پر جعلی اور غیر معیاری ادویات بھی کھلے عام فروخت ہو رہی ہیں جو عوام کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف نہ مؤثر کارروائی نظر آتی ہے اور نہ ہی میڈیا میں اس پر سنجیدہ توجہ دی جاتی ہے۔
تعلیم کے شعبے میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ گلی گلی میں پرائیویٹ اسکول کھلے ہوئے ہیں جن کی فیسیں اور داخلہ پالیسی مکمل طور پر ان کی اپنی مرضی پر چلتی ہیں۔ اکثر علاقوں میں سرکاری اسکولوں کی کارکردگی انتہائی کمزور ہے اور کئی دیہی علاقوں اور گوٹھوں میں سرکاری تعلیمی اداروں کا وجود ہی نظر نہیں آتا، جس کی وجہ سے والدین مجبوراً مہنگے پرائیویٹ اسکولوں کا رخ کرتے ہیں۔
اسی طرح ناجائز تجاوزات اور قبضہ مافیا بھی شہری زندگی کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔ گلیوں اور سڑکوں پر غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کے باعث راستے تنگ ہو چکے ہیں، جبکہ کچھ افراد اپنی مرضی سے آگے بڑھ کر گلیوں کو محدود کر دیتے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے اس پر مؤثر کارروائی کم ہی دیکھنے میں آتی ہے، مگر اس مسئلے کو بھی اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ صفائی ستھرائی کا ناقص نظام، کچرے کے ڈھیر، پینے کے صاف پانی کی کمی، سیوریج کے مسائل اور بجلی کی غیر قانونی کنڈیاں جیسے کئی دیگر بنیادی مسائل بھی عوام کو درپیش ہیں۔ یہ تمام مسائل عوامی زندگی کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے ان پر سنجیدہ رپورٹنگ بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔
دوسری جانب جب پولیس کی مثبت کارکردگی سامنے آتی ہے تو یہی لوگ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ پولیس اہلکار جرائم کی روک تھام، امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے دن رات خدمات انجام دیتے ہیں، مگر ان کی قربانیوں اور کامیابیوں کو اجاگر کرنے کی روایت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
خصوصاً ماہِ رمضان میں جب افطار کے اوقات میں ٹریفک کا شدید دباؤ ہوتا ہے تو پولیس اہلکار روزے کی حالت میں سڑکوں پر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ شدید دباؤ، گرمی اور تھکن کے باوجود وہ عوام کی سہولت کے لیے ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں، مگر افسوس کہ ان کی اس محنت اور قربانی پر بہت کم بات کی جاتی ہے۔
ڈیسک سرعام CID نیوز کے چیف ایگزیکٹو میاں محمد منشا کی جانب سے ایسے صحافیوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ذاتی مفادات یا کسی کو بلیک میل کرنے کے بجائے دیانتداری سے کام کریں۔ صحافت کا مقصد صرف تنقید نہیں بلکہ معاشرے کے تمام مسائل کو متوازن انداز میں اجاگر کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کو چاہیے کہ وہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط لکھیں۔ اگر کسی محکمے میں خامی ہے تو اسے ضرور سامنے لائیں، مگر ساتھ ساتھ دیگر اداروں کی کارکردگی اور عوامی مسائل کو بھی اجاگر کریں تاکہ صحافت واقعی عوامی خدمت کا ذریعہ بن سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں