لیڈ اسٹوری / خصوصی رپورٹ
کراچی میں آگ کے سانحات: انسانی جانوں سے کھلواڑ کب تک؟
ڈیسک: سرعام سی آئی ڈی نیوز | انٹرنیشنل میڈیا گروپ
کراچی، جو پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، آج ایک ایسے المیے کی تصویر بن چکا ہے جہاں تجارتی پلازے، شاپنگ مالز اور بلند و بالا عمارتیں انسانی جانوں کے لیے موت کے کنویں ثابت ہو رہی ہیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران کراچی میں آگ لگنے کے جو ہولناک واقعات رونما ہوئے، وہ محض حادثات نہیں بلکہ ایک مسلسل، منظم اور مجرمانہ غفلت کی داستان ہیں۔
🔥 سانحات کی خونچکاں تاریخ
گل پلازہ، ایم اے جناح روڈ
کراچی کی تاریخ کا ایک سیاہ باب، جہاں سینکڑوں دکانیں لمحوں میں راکھ بن گئیں، درجنوں افراد زندہ جل گئے اور کئی خاندان ہمیشہ کے لیے اجڑ گئے۔
تحقیقات نے واضح کیا کہ:
فائر الارم موجود نہیں تھا
ایمرجنسی راستے بند تھے
آگ بجھانے کا کوئی مؤثر نظام نصب نہیں تھا
یہ سوال آج بھی جواب کا منتظر ہے کہ اتنے بڑے پلازے کو بغیر حفاظتی انتظامات کے کیسے چلنے دیا گیا؟
عائشہ منزل کے قریب تجارتی و رہائشی عمارت
یہ سانحہ اس حقیقت کا ثبوت بنا کہ کراچی میں رہائشی اور کمرشل عمارتوں کا خطرناک امتزاج انسانی جانوں کے لیے کتنا مہلک ہے۔
شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ نے بچوں، خواتین اور بزرگوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا۔
کیا یہ سب کچھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی آنکھوں کے سامنے نہیں ہو رہا تھا؟
RJ شاپنگ مال
ناقص وائرنگ، بند راستے اور دھوئیں کے اخراج کا ناقص نظام—
یہ وہ وجوہات تھیں جنہوں نے ایک اور شاپنگ مال کو قبرستان بنا دیا۔
ہر بار کی طرح انکوائری کا اعلان ہوا، مگر نتیجہ صفر۔
رمپا پلازہ
ایک ہی عمارت میں بار بار آگ لگنے کے باوجود:
نہ عمارت سیل کی گئی
نہ مالکان کے خلاف مؤثر کارروائی ہوئی
یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ قانون صرف کمزور کے لیے ہے۔
🏗️ ناقص تعمیرات اور مبینہ کرپشن
ماہرین کے مطابق کراچی میں بڑی تعداد میں پلازے:
ناقص مٹیریل سے تعمیر کیے گئے
فائر سیفٹی قوانین کو نظر انداز کر کے
مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض این او سی حاصل کر کے بنائے گئے
جب یہ عمارتیں آگ کے بعد زمین بوس ہوتی ہیں تو:
ریسکیو پر کروڑوں خرچ ہوتے ہیں
متاثرہ خاندانوں کی بحالی کا بوجھ قومی خزانے پر آتا ہے
یعنی:
منافع بلڈر کماتا ہے، قیمت عوام ادا کرتے ہیں۔
💔 اظہارِ ہمدردی
چیف ایگزیکٹو میاں محمد منشا
چیئرمین، انٹرنیشنل میڈیا گروپ
اور
سرعام سی آئی ڈی نیوز کی پوری ٹیم
کراچی میں آگ کے ان تمام سانحات میں جاں بحق ہونے والوں کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور گہرے دکھ کا اظہار کرتی ہے۔
ہم ان خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں جنہوں نے:
اپنے پیارے کھوئے
اپنے گھر اجڑتے دیکھے
اور اپنی زندگی بھر کی کمائی راکھ ہوتے دیکھی
یہ دکھ صرف ان خاندانوں کا نہیں، پورے شہر کا دکھ ہے۔
❗ سخت سوالات اور شکوے
ہم بطور میڈیا یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں:
کب تک بغیر فائر سیفٹی پلازے بنتے رہیں گے؟
کب تک انسانی جانوں کو نظر انداز کیا جاتا رہے گا؟
کب بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ، کے ایم سی، کے ڈی اے اور فائر بریگیڈ کا حقیقی احتساب ہوگا؟
کیا کسی اور بڑے سانحے کے بعد ہی جاگنا مقدر ہے؟
🕯️ تاریخی جملہ
“کراچی میں آگ کے یہ سانحات حادثات نہیں، یہ ایک ناکام نظام، بے حس انتظامیہ اور انسانی جانوں سے کھلواڑ کی کھلی مثال ہیں۔ اگر آج بھی احتساب نہ ہوا تو کل ہر پلازہ ایک نئی قبر بن سکتا ہے۔”
📌 سرعام سی آئی ڈی نیوز کا مطالبہ
تمام بلند و بالا پلازوں کا فوری آڈٹ
فائر سیفٹی کے بغیر عمارتوں پر پابندی
ذمہ دار افسران اور بلڈرز کے خلاف فوجداری کارروائی
انسانی جانیں کاروبار نہیں ہوتیں۔
198