کیا بینک سے اپنی ہی رقم نکالنا بھی گناہ بن چکا ہے؟
پاکستان کی عوام پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری، اور مسلسل بڑھتے ہوئے ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ایک عام مزدور، جو دن رات محنت کرتا ہے، جس کی ماہانہ تنخواہ صرف 35,000 روپے ہے، جب وہ اپنی محنت کی کمائی بینک سے نکالتا ہے تو اب اس پر بھی نیا ٹیکس لگانے کی بات ہو رہی ہے۔ کیا یہ انصاف ہے؟ کیا اپنی ہی کمائی نکالنا جرم بن چکا ہے؟
پہلے ہی ہر چیز پر ٹیکس ہے — بجلی، گیس، پٹرول، آٹا، چینی، دوائیں — اور اب اگر بینک سے رقم نکالنے پر بھی عوام کو ٹیکس دینا پڑے گا تو غریب کہاں جائے؟ عوام کی برداشت کی حد ختم ہو چکی ہے۔
بینک پہلے ہی مختلف چارجز اور سروس فیسز وصول کرتے ہیں، اور حکومت بھی 50,000 یا 100,000 سے زیادہ رقم نکالنے پر ٹیکس لے رہی ہے۔ اگر اسی پالیسی پر عمل کیا جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے، لیکن اب تو 10,000 یا 20,000 روپے نکالنے پر بھی ٹیکس لگانے کی بات ہو رہی ہے، جو سراسر ظلم ہے۔
تو پھر ٹیکس کس پر لگے؟
اگر حکومت واقعی ملک کی معیشت بہتر کرنا چاہتی ہے تو ٹیکس کا ہدف غریب عوام نہیں بلکہ وہ طبقہ ہونا چاہیے جو واقعی مالی طور پر مستحکم ہے — بیوروکریٹس، اعلیٰ افسران، بڑے کاروباری گروپس، اور وہ افراد جن کے پاس بڑی بڑی جائیدادیں اور گاڑیاں ہیں۔ وہ لوگ جو ہر ماہ لاکھوں روپے تنخواہ لیتے ہیں اور مراعات سے لطف اندوز ہوتے ہیں، ان پر اضافی ٹیکس لگایا جائے۔
نہ کہ ایک غریب محنت کش پر جو پہلے ہی اپنی بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر عوام کا شدید ردِعمل
جیسے ہی یہ خبر سامنے آئی کہ حکومت بینک یا اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے پر نیا ٹیکس لگانے پر غور کر رہی ہے، عوام نے سوشل میڈیا پر شدید غصے کا اظہار کیا۔ ہزاروں لوگ ٹوئٹر، فیس بک، اور انسٹاگرام پر حکومت کے اس ممکنہ اقدام کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔
“ہم اپنی ہی کمائی پر ٹیکس کیوں دیں؟”
“اگر حکومت بوجھ بانٹنا چاہتی ہے تو طاقتور طبقے سے کیوں نہیں لیتی؟”
یہ وہ سوالات ہیں جو ہر پاکستانی کے دل میں ہیں۔
ہم خاموش نہیں رہیں گے
عوام کو دبایا نہیں جا سکتا۔ اگر یہ ٹیکس لاگو کیا گیا تو یہ نہ صرف ایک معاشی ظلم ہو گا بلکہ عوامی اعتماد کی توہین بھی ہو گی۔ حکومت کو فوری طور پر یہ تجویز واپس لینی چاہیے اور موجودہ پالیسی — یعنی 100,000 روپے یا اس سے زائد رقم نکالنے پر ٹیکس — کو ہی برقرار رکھنا چاہیے۔
آخر میں بس ایک پیغام:
ہم عوام ہیں، اور ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
اگر اپنی ہی کمائی نکالنے پر بھی ٹیکس دینا پڑا،
تو ہر گلی، ہر شہر، ہر اسکرین سے عوام کی آواز گونجے گی —
بس بہت ہو گیا!
پاکستانی حکومت ائی ایم ایف کے منشی ھے یہ کمیشن کھا کر اس وطن کو ائی ایم ایف کے لئے ایک منافع بخش ادارے کی شکل دئے ھوئے ھیں ان پر لعنت بیشمار عوام اٹھ کھڑے ھو اور ان کتو کو درختوں پر لٹکا دیں
جی جی ایسا ہی ہے