37

پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

پاکستان میں حالیہ دنوں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یہ اضافہ عام شہریوں اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی توڑنے کے مترادف ہے، جبکہ حکومت اور اعلیٰ بیوروکریٹس اپنی شاہانہ زندگی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
عوام پر اثرات
ایک عام مزدور یا دیہاڑی دار شخص جو روزانہ تقریباً ہزار سے بارہ سو روپے کماتا ہے، اگر وہ پہلے دو لیٹر پیٹرول لیتا تھا تو اس کا خرچ تقریباً پانچ سو روپے بنتا تھا۔ اب وہی دو لیٹر تقریباً سات سو روپے یا اس سے زائد میں پڑ رہا ہے۔
غریب عوام کے لیے یہ ظلم ہے کہ وہ اپنی روزانہ کی روٹی، بچوں کے کھانے اور بنیادی زندگی کے اخراجات پورے نہیں کر سکتے، جبکہ اضافی پیسہ حکومت کے اعلیٰ بیوروکریٹس کے ہاتھوں میں جا رہا ہے۔
بیوروکریسی اور شاہانہ اخراجات
حکومت اور اعلیٰ بیوروکریٹس نے اپنے شاہانہ اخراجات اور جٹس میں کمی نہیں کی۔ عوام کی روزانہ کی کمائی سے 55 روپے فی لیٹر کے حساب سے صرف ایک دن میں تقریباً 2 ارب 75 کروڑ روپے اضافی آمدنی بنتی ہے۔
یہ پیسہ عوام کی محنت سے حاصل کیا جا رہا ہے، مگر حکومت اور بیوروکریٹس اسے اپنی جیب میں ڈال کر شاہانہ عیاشی اور عہدے دار مراعات پر خرچ کر رہے ہیں، جبکہ عام آدمی کے منہ سے نوالہ چھینا جا رہا ہے۔
معیشت پر اثرات
ایندھن کی قیمتیں بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے کرایے، اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات مہنگی ہو رہی ہیں۔ ملک کی معیشت پر برا اثر پڑ رہا ہے اور عام شہری ہر روز مہنگائی کے بوجھ تلے دب رہا ہے۔
عالمی مثالیں
ایران: جنگ کے باوجود پیٹرول 0.05–0.10 ڈالر فی لیٹر، سپلائی متاثر مگر عوام پر بھاری بوجھ نہیں۔
اسرائیل: پیٹرول 7.27 شیکل (≈ USD 2.34) فی لیٹر، عالمی اثر مگر عوام پر محدود بوجھ۔
افغانستان: پیٹرول 57 افغانی (≈ USD 0.90/L) فی لیٹر، قیمتیں پاکستان کے مقابلے میں کم، مگر آمدنی بھی کم۔
فلسطین / غزہ: پٹرول 6.85–7.80 شیکل فی لیٹر (≈ USD 1.9)، جنگ کے باوجود عالمی مارکیٹ اور سپلائی کے مطابق۔
متحدہ عرب امارات: پیٹرول 3.03 درہم فی لیٹر (≈ USD 0.83)، عالمی اثر مگر عوام پر کم بوجھ۔
یورپ (بیلجیم): پیٹرول 1.677 یورو فی لیٹر، ڈیزل 1.923 یورو فی لیٹر، مہنگائی مگر محدود عوامی بوجھ۔
امریکہ: پیٹرول $3.25 فی گیلن (≈ USD 0.86/L)، عالمی اثر مگر عوام پر بوجھ محدود۔
خلاصہ
پاکستان میں عوام پر مہنگائی کا بوجھ غیر منصفانہ حد تک بڑھ گیا ہے۔ ہر روز 2 ارب 75 کروڑ روپے اضافی عوام سے نکال کر بیوروکریٹس اور حکومتی اعلیٰ افراد اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔
غریب شہری اپنی روزمرہ زندگی کے لیے تنگی کا شکار ہیں، جبکہ حکومتی عہدے دار اپنی شاہانہ زندگی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت شاہانہ اخراجات کم کرے، عوام کو ریلیف فراہم کرے، اور معیشت کی حفاظت کرے تاکہ عوام کے منہ سے نوالے نہ چھینے جائیں۔
تحریر کردہ سینیئر صحافی میاں محمد منشا پیش انٹرنیشنل میڈیا گروپ ڈیسک سرعام سی ائی ڈی نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں