724

منور سلطانہ آپ کو یاد ہو یا نہ ہو، یہ گیت اور نغمے ضرور یاد ہوں گے ” واسطہ ای رب دا، توں جاویں وے کبوترا اڈی اڈی جاواں ہوا دے نال او پردیسیا بھول نہ جانا ، بھول نہ جانا او پردیسیا مینوں رب دی سونہہ تیرے نال پیار ہوگیا کیہ کیتا تقدیرے، کیوں رول دتے دو ہیرے یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران، اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان

منور سلطانہ آپ کو یاد ہو یا نہ ہو،
یہ گیت اور نغمے ضرور یاد ہوں گے ”

واسطہ ای رب دا، توں جاویں وے کبوترا
اڈی اڈی جاواں ہوا دے نال
او پردیسیا بھول نہ جانا ، بھول نہ جانا او پردیسیا
مینوں رب دی سونہہ تیرے نال پیار ہوگیا
کیہ کیتا تقدیرے، کیوں رول دتے دو ہیرے
یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران، اے قائد اعظم تیرا احسان ہے احسان
چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
اور اختر شیرانی کی غزل
میں آرزوئے جاں لکھوں یا جان آرزو

اپنے وقت کی اس بڑی گلوکارہ منور سلطانہ کا آج یومِ وفات ہے۔ وہ 1925 میں لدھیانہ میں پیدا ہوئیں اور 7 جون 1995 کو لاہور میں وفات پائی۔آج ان کی 26 ویں برسی ہے.۔!!!

انہوں نے فلمی گلوکاری کا آغاز قیام ِ پاکستان سے قبل فلم ’مہندی‘ سے کیا۔ انہوں نے جن فلموں کے گیت گائے ان میں پھیرے، محبوبہ، انوکھی داستان،بے قرار،دو آنسو، سرفروش، اکیلی، نویلی، محبوب، جلن، انتقام، بیداری، معصوم اور لخت جگر قابلِ ذکر ہیں۔۔!!!

اپنے کیرئیر کے عروج کے زمانے میں معروف شاعر اور ریڈیو پاکستان کے افسر ایوب رومانی نے ان سے شادی کر لی، جس کے بعد وہ گھرداری تک محدود ہوگئیں۔
ریڈیو پاکستان کی سابق ڈائریکٹر پروگرامز نیّرجمال بتاتی ہیں، منور سلطانہ نے ریڈیو پاکستان کے لیے بہت عمدہ غزلیں اور لوک گیت بھی گائے، مثلا”۔۔!!

ساڈا چڑیاں دا چنبہ نی
ساون گائیے نی
لوری لال نوں میں دیواں،
اور ایوب رومانی مرحوم کی بہت سی غزلیں۔۔۔ منور سلطانہ کی آواز میں ایک خاص درد بھری مٹھاس اور تازگی تھی۔ نہایت وضع دار،سادہ اور باوقار شخصیت تھیں ۔۔!!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں