ذرائع کا کہنا ہے کہ جاری کیے گئے پرمٹ پر سرکاری فیس انتہائی کم لکھی جاتی ہے، جبکہ درپردہ افسران لاکھوں روپے کی غیرقانونی کمائی کرتے ہیں۔ اس عمل سے نہ صرف قیمتی جنگلات کا نقصان ہو رہا ہے بلکہ قومی خزانے کو بھی شدید مالی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف لسبیلہ بلکہ مجموعی طور پر پورے ملک کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے ماحول میں آلودگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں موسمیاتی تبدیلیاں اور قدرتی آفات میں اضافہ متوقع ہے۔ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی عوامی صحت کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔

جب کبھی بھی وطن عزیز کو خطرہ درپیش ہوتا ہے، تو ایک طاقت ور دیوار بن کر جو ادارے ہمارے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں، وہ ہمارے دفاعی ادارے ہیں — پاک فوج، پاک بحریہ، پاک فضائیہ، رینجرز، ایف سی، آئی ایس آئی، اور دیگر سیکیورٹی ادارے جو دن رات اس مادرِ وطن کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر ڈٹے ہوتے ہیں

چونیاں سے وقاص علی کی رپوٹ کے مطابق شخص موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ڈیمپر ڈرائیور انتہائی غفلت کا مظاہرہ کر رہا تھا اور حادثے کے فوراً بعد موقع سے فرار ہو گیا۔ حادثے کی اطلاع پر فوری طور پر ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گی جبکہ پولیس حسبِ روایت جائے وقوعہ پر نہ پہنچ سکی۔ علاقہ مکینوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے

سونے، تانبے کے بڑے ذخائر ریکوڈک کی فزیبلٹی اسٹڈی مکمل، 627 ملین ڈالر سرمایہ کاری کی تصدیق*سونے، تانبے کے بڑے ذخائر ریکوڈک کی فزیبلٹی اسٹڈی مکمل، 627 ملین ڈالر سرمایہ کاری کی تصدیق* آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے ریکوڈک فزیبلٹی اسٹڈی مکمل کرنے کے ساتھ 627 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تصدیق کردی۔ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے ریکوڈک منصوبے کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی مکمل کرنے کا اعلان کر دیا، رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان میں دنیا کے سب سے بڑے تانبے اور سونے کے ذخائر کو ترقی دینے کی کوشش کا اہم حصہ ہے۔ او جی ڈی سی ایل کے پاس اس منصوبے میں 8.33 فیصد حصہ ہے، جو دیگر دو سرکاری اداروں پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (PPL) اور گورنمنٹ ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (GHPL) کے ساتھ 25 فیصد کا مشترکہ شیئر بنتا ہے۔ مزید 25 فیصد حصہ حکومتِ بلوچستان کے پاس ہے، اور باقی 50 فیصد حصہ بیریک گولڈ کارپوریشن کے پاس ہے، جو اس منصوبے کی آپریٹر بھی ہے۔ فزیبلٹی اسٹڈی کے مطابق منصوبے کی کان کنی کا عرصہ 37 سال پر مبنی ہوگا، جو دو مرحلوں میں مکمل ہوگا۔ پہلے مرحلے پر 5.6 ارب ڈالر کی لاگت آئے گی، اور یہ 2028 میں کام شروع کرے گا، اس کے لیے 3 ارب ڈالر کا قرض لیا جائے گا جبکہ باقی رقم شیئر ہولڈرز فراہم کریں گے۔

فوڈ اتھارٹی کے اہلکاروں کی رشوت خوری، تاجر انصاف کے منتظر ڈی جی آنٹی کرپشن کو درخواست دائر کراچی (بیورو رپوٹ) شہر قائد میں سندھ فوڈ اتھارٹی کے اہلکاروں کی مبینہ رشوت خوری کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا۔ مقامی تاجر محمد اسلم ولد فیروز خان نے ڈی جی سندھ فوڈ اتھارٹی کو درخواست دے دی متاثرہ شخص نے بتایا کہ میری دودھ دہی کی دوکان پر چھاپہ