جنرل سید عاصم مُنیر شاہ کون ہیں ؟
آپ ایک سید حسینی گھرانے کے چشم و چراغ ہیں ۔ آپ کے والدین کا تعلق ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ایک نہایت مذہبی دیندار اور نیک خاندان سے ہے۔ آپ کے دادا اور والد درس و تدریس سے وابستہ رہے اور قرانِ پاک کے حفاظ تھے۔
جنرل عاصم کو اس چیز کا قلق تھا کہ وہ بچپن اور نوجوانی میں تعلیم میں اس قدر مصروف رہے کہ تب قران پاک حفظ نہ کرسکے۔ جب بحیثیت کرنل سعودی عرب میں ڈیفینس اتاشی تقرر ہوا تو طبعیت میں قران کی مُحبت لپکے مارنے لگی اور ایک بے چینی طاری ہوگئ۔ ایک سچی لگن اور نظم کے تحت قران کو حفظ کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو صرف تین سال کی مُدت میں چالیس سال کی عمر میں قران حفظ کرلیا۔ اس دوران گوناں گوں سرکاری مصروفیات بھی جاری رہیں لیکن دل میں ایک ایسی چنگاری تھی جو جلتی رہی اور آپ اپنے خاندان کی تیسری نسل کے حافظ ہوگئے۔
والدین راولپنڈی شفٹ ہوگئے جہاں سید مُنیر شاہ صاحبدرس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئے اور ٹیکنیکل کالج راولپنڈی کے پرنسپل بھی رہے۔ جنرل عاصم بچپن میں پڑھائ میں بہت اچھے تھے ۔ میٹرک اور ایف ایس سی میں شاندار نمبر لئے اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں داخل ہوگئے۔ دو سال مکمل ہوئے تو طبعیت میڈیکل کی تعلیم سے بے زار رہنے لگی ۔ قدرت آپ سے کوئ بڑا کام لینا چاہتی تھی۔ بی ایس سی میں داخل ہو گئے اور فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوئے تو پاک آرمی میں او ٹی ایس کمیشن میں اپلائ کردیا –
پاکستان آرمی میں 1986 میں بحثیت کیپٹن شامل ہوگئے۔ تب سے آپ نے پیچھے مُڑ کر نہیں دیکھا۔ پاکستان قران اور اسلام سے سچی محبت آپ کے سینے میں موجزن ہے۔ دُنیا میں پاکستان آرمی کی بارہا نمایندگی کر چُکے ہیں۔ ملٹری انٹیلیجنس اور آئ ایس أئی کی سر براہی کے علاوہ گُجرانوالہ کور بھی کمانڈ کر چُکے ہیں۔
پاکستان کو عالمِ اسلام کا قلعہ سمجھتے ہیں اور دل سے چاہتے ہیں کہ ایران سعودی عرب ترکی اور تمام اسلامی ممالک کے درمیان مثالی برادرانہ تعلقات ہوں۔ دیانت اور امانت میں یقین رکھتے ہیں ۔ سرکار کے پیسے اور وسائل کو اپنی ذات کے لئے استعمال کے سخت خلاف ہیں۔
پاکستان آرمی دنیا کی دس طاقت ور ترین افواج میں سے ہے۔ اس آرمی کے ہوتے ہوئے کوئ پاکستان کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔ فوج کی کمان ایک سچے اور نڈر جنرل کے ہاتھ میں آنے سے پاکستان مزید محفوظ اور مضبوط ہوگا۔
پاکستان زندہ باد