326

بریکنگ نیوز بڑی خبر بلوچستان حکومت کا وزیر اعلیٰ بلامقابلہ انٹرا پارٹی الیکشن میں قدوس بزنجو چیئر مین ،صالح بھوتانی صوبائ صدر بلامقابلہ اپوزیشن فرینڈلی آخر کار اس نوازشات کا راز کیا ہے ؟ میر اکرم بلوچ آوارانی

بلوچستان حکومت کا وزیر اعلیٰ بلامقابلہ انٹرا پارٹی الیکشن میں قدوس بزنجو چیئر مین ،صالح بھوتانی صوبائ صدر بلامقابلہ اپوزیشن فرینڈلی آخر کار اس نوازشات کا راز کیا ہے ؟ میر اکرم بلوچ آوارانی
پاک سر زمین پارٹی کے مرکزی سینئر رہنما میر اکرم بلوچ آوارانی نے اپنے بیان میں حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ان عوامل سے پردہ اٹھ جانا چاہیئے اور عوام کا تجسس اپنے اختتام تک پہنچنا چاہیئے جس میں باپ پارٹی رات و رات بن گئ پھر اس کے بعد اسی پارٹی کے مرکزی صدر کو وزیراعلیٰ منتخب کر لیا گیا معاملات میں پوشیدہ وجوہات کی وجہ سے ایک وزیراعلیٰ کو ہٹا کر اسی باپ پارٹی کے اسپیکر کو وزیراعلیٰ منتخب کر لیا گیا اپوزیشن نے بھی فرینڈلی کردار حکومت کیساتھ خوب نبھایا اور پھر باپ پارٹی کے انٹرا الیکشن میں مرکزی صدر قدوس بزنجو اور صوبائ صدر صالح بھوتانی بلامقابلہ منتخب ہو گئے آخر اس راز اور غیرمعمولی نوازشات کے پیچھے کیا عوامل ہیں بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اپوزیشن جس نے حکومت کو یاد کروانا ہوتا ہے کہ عوام کن مسائل کا شکار ہے کہاں کرپشن ہو رہی ہے کہاں عوام کیساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں مگر حکومت اور اپوزیشن ایک ہی پیج پر ہیں جسکا نتیجہ آج بلوچستان مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے عوام بدحالی کا شکار ہے انفراسٹرکچر تباہ ہے حسپتال تعلیمی ادارے تباہ حالی کا شکار ہیں حیرت ہے جام کمال خان سی ایم تھے بلوچستان میں اچھے طریقے سے ڈیلیور ہو رہا تھا ایک امید بندھ چلی تھی کہ شاید اب بلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے مگر کرپشن کے دلدادہ قدوس بزنجو نے اپوزیشن ارکان کو بھی خرید کر کے رات و رات سی ایم شپ سے ہٹا دیا اور خود براجمان ہو گیا چالیس سال سے قدوس بزنجو کا خاندان آواران کا حکمران ہے جب قدوس بزنجو وزیر حیوانات تھا تو یہ وہ سوداگر تھا جس نے گھاس سندھ میں فروخت کی اور مال مویشی ایران میں اس سوداگر کی تجارت ایران سے ہوتے ہوئے خلیجی ممالک تک جا پہنچی اس گائے نے گند تو بلوچستان کو دیا مگر دودھ خلیجی ممالک میں کرپشن کے بلبوتے پر بنے والے وزیراعلیٰ نے وزیراعلیٰ بنتے ہی اپنی تجارت کو فروغ ملائیشیا یورپ اور امان تک پہنچا دیا مگر اس تاجر وزیراعلیٰ نے وزیراعلیٰ بننے کے بعد آواران کا ایک دورہ تک نہیں کیا کیونکہ یہ آواران کی عوام کا چالیس سال سے مقروض ہے مگر ڈہٹائ اور شرمندگی اور عوام کے استحصال نے اسے آواران آنے سے زنجیروں سے جکڑ رکھا ہے آواران ڈسٹرکٹ جو چار تحصیلوں مشکے ،جائو ، آواران اور گشکور سے منسلک ہے جس کا رقبہ 12510 مربع کلومیٹر ہے بدقسمتی اور نااہل حکمران قدوس بزنجو کے صدقے ایک کلومیٹر پکی روڈ سے بھی محروم ہے آواران ڈسٹرکٹ اتنا پسماندہ ہے کہ یہ پاکستان کی بجائے کسی افریکی ملک کا علاقہ لگتا ہے جہاں پتھر کا زمانہ ہو آواران ڈسٹرکٹ ایک پرامن ضلع تھا مگر آج قدوس بزنجو کی زیادتیوں اور عوامی استحصال کے باعث پرتشدد اور انتشار کا شکار ہے آواران کی آبادی 1لاکھ 73 ہزار نفوس پر مشتمل ہے ہر روز فی کس شخص 13 روپے 62 پیسے وزارت صحت دیتی ہے مگر نہ آواران میں حسپتال ہیں نہ ہی ڈاکٹرز موجود ہیں جو چند ڈاکٹرز ہیں وہ ڈیوٹی پر موجود نہیں ہوتے شام 6 بجے کے بعد جتنی ایمرجنسی ہو جائے میڈیسن نہیں ملے گی آخر یہ پیسہ بھی کون کھا رہا ہے جسکا جواب واضح ہے قدوس بزنجو! آواران میں ایک ہی کیڈٹ کالج ہے وہ بھی چیف آف آرمی اسٹاف قمر جاوید باجوہ نے دیا نااہل اور کرپٹ وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے اسکولوں میں اساتزہ تک نہیں آواران کا مستقبل اندہیروں میں جھونک دیا گیا ہے لیویز اور پولیس کے اہلکار ڈیوٹی نہیں کر رہے قدوس بزنجو کی آواران کی عوام کے ساتھ ایسی زیادتی جسکی وجہ سے آواران کی عوام میں انتہائ غم و غصہ و اشتعال پایا جاتا ہے وہ غیر مقامی لوگوں کو آواران میں منتقل کر کے انکے لوکل بنوا کر سرکائ نوکریوں کی نوازشات ہے جنکے ساتھ یہ سودا ہوا ہے ووٹ ہمیشہ قدوس بزنجو کو دینا ہے اور یہی سرکاری اہلکار تنخواہ ڈسٹرکٹ آواران سے لیتے ہیں اور نوکری خلیجی ممالک میں کرتے ہیں میر اکرم بلوچ آوارانی کا مزید کہنا تھا جب جام کمال وزیراعلیٰ بلوچستان تھے تب انہوں نے بھی آواران کی عوام کو انسان سمجھا اور آواران کا دورہ کیا اور اسکے مقابلے میں قدوس بزنجو نے سی ایم بن کر لسبیلہ میں ہزاروں ایکڑ زمین اپنے خاندان کے نام منتقل کی میر اکرم بلوچ آوارانی کا کہنا تھا بلوچستان کی عوام تعلیم علاج روزگار کیلئے ترس رہی ہے اور کرپٹ وزیراعلیٰ کی کرپشن اور تجارت کھربوں میں پہنچ گئ ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نیب اور انٹی کرپشن کو کرپٹ قدوس بزنجو نے خرید کر اپنی لونڈی بنا لیا ہے اسلئے میں حساس اداروں سے مقتدر حلقوں سے گزارش کرتا ہوں خدارا قدوس بزنجو کا احتساب کیا جائے ان کی غیر ملکی وفاداریوں کی جانچ پڑتال کی جائے ان کی جائیداد اور بیرون ممالک پھیلے کاروباروں کو ضبط کیا جائے اور ایماندار لوگوں کو حکومتی امور چلانے کا بیڑا دیا جائے تاکہ بلوچستان سے بدامنی انتشار استحصال اور کرپشن کا خاتمہ ہو سکے اور بلوچستان پاکستان کی ترقی میں نمایاں حصہ ڈال سکے جب تک ہم عوامی مسائل اور عوامی استحصال کے حل کی طرف نہیں جائیں گے بلوچستان مزید پسماندہ ہوتا حائے گا عوام احساس محرومی کا شکار ہو کر غلط ہاتوں میں کھیلنے پر مجبور ہو جائے گی میر اکرم بلوچ آوارانی کا مزید کہنا تھا سیلاب کی صورت میں جو قدرتی آفت آئ ہے سراسر حکمرانوں کے ظلم و ستم کی ستائ ہوئ عوام کی وہ آہ ہے جسے قدرت نے بطور ناراضی نازل کی ہے لہٰذا بلوچستان میں مثبت تبدیلی انتہائی ناگزیر ہو چکی ہے عوام کے حقوق کے حصول کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں گے عوام کی خدمت میرے ایمان کا جزو ہے !
پاک فوج زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں