223

بورے والا ہسپتال کے سٹاف کی من مانیاں۔

بورے والا سرکاری ہسپتال میں عملا اپنی حکومت چلانے لگے ایک نرس کہ کہنے پے سیکورٹی گارڈ نے رات کہ دو بجے معصوم بچی عائشہ عدنان کو بوریوالہ THQ سے نکال دیا کیا جب بوریوالہ ایم ایس امجد شکیل کو بتایا گیا کہ ایسا کیا نرس نے تو ایم ایس کہنے لگا کیمرہ لگانا پڑے گاہ اس بات کا کیمرے کہ ساتھ کیا تعلق جہاں نرس ڈاکٹر کا کام کرے وہاں ایم ایس کو اور کیا چاہیے ایسے ایم ایس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ایسے ایم ایس کو فوری طور پر معطل کیا جائے پورے ہسپتال میں کہیں بھی کوئی اپنی ڈیوٹی صحیح طریقے سے سرانجام نہیں دے رہا ہر کوئی خود کو ایم ایس ہی سمجھ رہا ہے دل کرے تو پرچی دی جاتی ہے دل کرے تو پرچی بند کردی جاتی ہے جو نرسیں ہیں وہ اپنے کمروں سے نکلنا گوارا ہی نہیں سمجھتی جب کے مریض کہاں جائیں ایک ایک بیڈ پہ دودو بچے لگائے ہوئے ہیں ڈریپ بیڈ پہ ہی پڑی ہیں سیکورٹی گاڑ موبائل فون پہ ہی لگے رہتے ہیں سارا دن اور ایم ایس سلفیاں بنانے میں مصروف ہیں اعلی افسران سے درخواست ہے کہ ٹی ایچ کیو بورے والا ایم ایس امجد شکیل کو فوری طور پہ معطل کیا جائے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں