151

پولیس گردی کی ایک ویڈیو منظر عام پے۔

کراچی میں پولیس گردی کی ایک اور ویڈیو منظر عام پر آ گئے۔

سیف سٹی کے دعویدار کراچی پولیس کی صفوں میں شارٹ ٹرم گڈنیپنگ میں ملوث پولیس بے لگام,

پولیس پارٹی نے گھر کے باہر لگے سی سی ٹی وی کیمرے بھی توڑ دے تاکہ ثبوت مٹ جائے,

لیکن کیمرے کی آنکھ نے پولیس گردی کے پول کھول دیئے,

گزشتہ رات لانڈھی کے علاقے میں پولیس یونیفارم اور سادہ لباس افراد نے کی شارٹ ٹرم گڈنیپنگ اہلے علاقہ نہ ناکام بنادی,

گزشتہ کئی ماہ سے لانڈھی کورنگی اور ملیر علاقوں میں رات کے آخری پہر میں پولیس گردی کے واقعات معمول بن چکے ہیں,

گزشتہ رات لانڈھی نمبر 2 ڈی ایریا غوثیہ مسجد بامقابل عطاری بریانی والی گلی میں دو پولیس موبائیلز میں 10 سے زائد افراد نے گھر کا دروازہ توڑنے کی کوشش کی تو زوردار ضربیں لگانے کی آوازوں سے اطراف کے رہائشی اپنے گھروں سے باہر آ گئے,

رات کی تاریکی میں گھروں میں زبردستی داخل ہونے والی پولیس پارٹی اور سادہ لباس افراد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ,

مذکورہ کارروائی سے قبل گھر کے باہر نصیب سی سی ٹی وی کیمرے توڑتے ہوئے کارروائی کے لئے آنے والے پولیس اہکاروں کی ویڈیو محفوظ ہو گئے,

لانڈھی کے مکینوں کا کہنا تھا کہ کیمرہ میں دیکھا جانے والا لمبا قد آور پولیس اہلکار رضوان شاہ کی تصویر ہے جو کہ پولیس کے دیگر اداروں کی ملی بھگت سے رات کی تاریکی میں لوٹ مار کی وارداتیں کرنے میں ملوث ہے,

مذکورہ پولیس پارٹی رات کی تاریکی میں کاروباری شخصیات کے گھروں میں زبردستی داخل ہونے کے بعد فیملی کو یرغمال بنا کر نقدی, طلائی زیورات,موبائل فونز اور دیگر قیمتی اشیاء سے محروم کرتے ہیں,

متاثر فیملی نے آئی جی سندھ ایڈیشنل آئی جی اور کراچی پولیس چیف سے واقع میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمہ کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں