نوشہروفیروز کے شہر دریاخان مری کے مدرسے میں معصوم بلاول سومرو کو وحشی مولوی نے بدترین تشدد کا نشانہ بنا دیا.

معصوم کو سبق یاد نا کرنے کے جرم میں لوہے کی راڈ گرم کر کہ اس کا جسم جلاتا رہا.
بچے کی چیخوں پر محلے کے لوگ جمع ہوگئے جنہوں نے پولیس کو اطلاع دی اور بچے کے والدین کو بتایا.
جلاد مولوی دلدار ڈاہری پر پولیس نے کاروائی کرنے سے انکار کر دیا کہ مذہبی ادارے کا معاملا ہے
کل کو سب مولوی نکلیں گے اس مولوی کیلیے
آخر والدین نے عدالت سے رجوع کیا عدالت نے حکم دے کر مولوی کو گرفتار کروایا.
اب بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر ان جاہلوں کے پاس لوگ بچے کیوں بھیجتے ہیں۔
یہ کیا درس دیتے ہونگے؟ یہ کونسے مذہب کا درس ہے؟
آخر کب تک ہم مذید اداس چہرے پیدا کرتے رہیں گے اور دو وقت کی روٹی کیلیے ان جلادوں کے حوالے کرتے رہیں گے؟
آخر کب تک یہ ریاست آنکھیں بند کر کہ بیٹھی تماشہ دیکھےدیکھےگی؟