کراچی
2 دن قبل تھانہ قائد آباد کی حدود فردوس چالی موڑ پر ایک بلائنڈ مرڈر ہوا
موقع واردات پر اس وقت ایس ایس پی ملیر طارق الہی مستوئی بھی پہنچ گئے تھے
مقتول سے کچھ بھی نہیں چھینا گیا تھا
ایس ایس پی ملیر نے ایس ایچ او قائد آباد کو جلد سے جلد قاتل پکڑنے کا ٹاسک دیا
اگلے دن مقتول کے ورثاء نے داؤد چورنگی پر احتجاجی دھرنا بھی دیا
قاتل کے پکڑنے کے پیچھے اصل کردار ابوبکر نامی سپاہی ہے جس کی تھانہ قائد آباد میں فوکل پرسن کی ڈیوٹی ہے
فوکل پرسن ابوبکر سی سی ٹی فوٹیج کلیکٹ کرکے قریبی ہوٹل پر بیٹھ کر چائے پینے لگتا ہے اور بار بار سی سی ٹی ویڈیو دیکھ کر قاتل کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہے
اتفاق سے اسی وقت قاتل سپاہی ابوبکر کے سامنے سے گذرتا ہے اور حلیہ دیکھ کر سپاہی ابوبکر کو شک ہوتا ہے کہ یہ وہی قاتل ہے
سپاہی ابوبکر قاتل کا پیچھا کرتے ہوئے جوس کی دوکان پر پہنچتا ہے
قاتل جوس پینے لگتا ہے اور سپاہی ابوبکر باہر نکل کر روڈ پر کھڑا ہوجاتا ہے اور موبائل نکالتا ہے ایس ایچ او قائد آباد کو آگاہ کرنے کے لئے
سپاہی ابوبکر کے فون کرنے سے پہلے ہی وہاں ایس ایچ او قائد آباد کی موبائل گذررہی ہوتی ہے جو کہ داؤد چورنگی احتجاج سے واپسی آرہے تھے اور مقتولین کے ورثاء سے 3 دن کا ٹائم لیا تھا قاتل پکڑنے کا
وہی بات ہے جس کا جہاں دانہ پانی لکھا ہوتا ہے وہ وہاں پہنچ جاتا ہے
سپاہی ابوبکر ایس ایچ او قائد آباد کو روک کر کہتا ہے سر 2 منٹ اور بھاگ کر جوس سینٹر سے قاتل کو پکڑ کر لاکر ایس ایچ او قائد آباد کی موبائل میں بٹھاتا ہے
15 گھنٹے کے اندر ایک بلائنڈ مرڈر کا کیس حل کرنا اور قاتل کو پکڑنا بلاشبہ بہترین کاروائی ہے
قاتل نے مقتول کو کیوں مارا اس کے پیچھے کیا کہانی تھی اس پر پردہ رہنے دیتے ہیں
اتنا کہوں گا کہ اب شعبہ انویسٹیگیشن اپنی تفتیش صحیح رخ پر کریں تاکہ ایسے بے غیرت قاتلوں کو عبرت ناک سزا ملے
قاتل پکڑنے کے پیچھے اصل محنت سپاہی ابوبکر کی ہے لیکن بالا افسران کو کریڈٹ نہ دینا ذیادتی ہوگی
جب سے ایس ایس پی ملیر طارق الہی مستوئی نے ضلع ملیر ک چارج لیا ہے روزانہ کی بنیاد پر اپنے ضلع میں کسی نہ کسی مقام پر گشت کرتے رہتے ہیں اور کسی نہ کسی تھانے کا سرپرائز وزٹ بھی کرتے ہیں
ایس ایس پی ملیر طارق الہی مستوئی کے ناطے کے بعد کافی حد تک ضلع میں جرائم پر کنٹرول ہوا ہے
ویلڈن ایس ایس پی ملیر
ویلڈن ایس ایچ او قائد آباد
ویلڈن سپاہی ابوبکر