سکرنڈ واقعے کی تفصیلات ۔۔۔
سندھ رینجرز اور پولیس کو خفیہ اطلاع ملی کہ سکرنڈ سے 12 کلومیٹر دور کچے کے علائقے ماڑی جبرانی میں ایک خودکش بمبار موجود ہے جس کے پاس دھماکہ خیز مواد اور ہتھیار ہیں۔
اطلاع ملنے کے فورا بعد دوپہر 2 بجے رینجرز کی 8 عدد گاڑیاں اور پولیس نفری کچے کے علائقے ماڑی جبلانی میں پہنچ گئی۔
یاد رہے اطلاع پہلے سے گرفتار ایک قوم پرست دہشتگرد نے دی تھی۔ رینجرز اس دہشتگرد کو بھی اپنے ساتھ لیکر آئی تاکہ وہ گھر کی نشاندہی میں مدد کرے۔
جیسے ہی اس دہشتگرد کے زریعے گھر کی تلاشی کے لیے سرچ آپریشن شروع کیا گیا تو خودکش بمبار کے مبینہ ساتھیوں نے مزاحمت شروع کردی کہ یہاں سے چلے جاو، ہم تلاشی نہیں دیں گے۔
رینجرز نے بہت سمجھایا کہ معاملہ انتہائی حساس ہے، آپ راستے سے ہٹ جائیں، ہمیں اپنا کام کرنے دیں لیکن کوئی اثر نہیں ہوا۔۔۔
رینجرز انہیں نظرانداز کرکے آگے بڑھی تو شرپسندوں نے رینجرز پر حملہ کردیا جس میں رینجرز کے 3 اہلکار زخمی ہوگئے۔
انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران اگر کوئی سکیورٹی فورسز پر حملہ کرے تو ان سے بھی دہشتگردوں کی طرح نمٹا جاتا ہے ۔
رینجرز پر حملے کی صورت رینجرز نے بھی شرپسندوں پر فائرنگ کردی جس سے 3 شرپسند بھی ہلاک ہوگئے۔
یاد رہے سکرنڈ کے قریب یہ علائقہ ماڑی جبلانی سندھ کے قوم پرستوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور اکثر یہی قوم پرست کہیں نہ کہیں خودکش حملوں یا بم دھماکوں میں سامنے آتے ہیں۔
اب اگر اس خودکش بمبار نے کل کو کہیں دھماکہ کرکے معصوم لوگوں کی جان لی تو آپ دیکھیں گے یہی لوگ چیخیں گے کہ ہماری سکیورٹی فورسز کیا کر رہی ہیں۔
اب اس واقعے کو کچھ قوم پرست الگ کہانی دیکر رینجرز کے خلاف پروپیگنڈہ کریں گے۔ ان سے ہوشیار رہیے گا۔
رپوٹ ایجنسی
نوٹ : گاوں والوں کا موقف یہ ہے کہ ہم نے رینجرز کو منع کیا کہ ہمارے گھروں کی تلاشی نہ لی جائے۔ وجہ پوچھی تو کہا ہم پردہ دار لوگ ہیں تلاشی نہیں دیں گے۔ بس یہی موقف ہے یہ بھی بھلا کوئی موقف ہوا؟؟ درحقیقت وہ تلاشی دینا ہی نہیں چاہتے تھے۔ ایک خودکش بمبار کو اگر کسی نے پناہ دی ہوئی تھی یا وہ ادھر کا ہی رہائشی تھا تو تلاشی دینے میں انکو کیوں موت پڑ رہی تھی۔۔۔ رکاوٹ وہی ڈالتے ہیں جہاں دال میں کچھ کالا ہو یا جہاں خود ہی سہولتکار ہوں۔ چپ چاپ تلاشی لینے دیتے، کچھ نہ بھی ملتا تو رینجرز خاموشی سے چلی جاتی۔ باقی یہ کیا بات ہوئی کہ ہم تلاشی نہیں دیں گے اور الٹا تلاشی شروع کرنے تو رینجرز پر حملہ کردیا۔