کراچی شہر قائد میں
*بلدیہ عظمیٰ کراچی کے اینٹی انکروچمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں 2 ارب سے زائد سالانہ بھتہ وصولی کا انکشاف*
*کراچی میں ٹریفک جام کی اصل وجوہات منظر عام پر آگئی ۔*
*میئر کراچی مرتضی وہاب ڈپٹی میئر سلیمان عبداللہ مراد راشی سفارشی افسران کے سامنے بے بسی کی تصویر بن گئے*
*سالانہ 2 ارب روپے سے زائد کے بھتے کی خطیر رقم میں حصہ دار کون ۔۔؟؟؟*
✍️ تفصیلات کے مطابق کراچی میں ٹریفک جام میں شہریوں سے لوٹ مار اور ایمرجنسی میں ہسپتالوں میں جانے والی ایمبولینسوں میں مریضوں کی شہادتوں اور چیخنے چلانے تڑپنے کے اصل زمہ دار کراچی میونسپل کارپوریشن کے اینٹی انکروچمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے *سفارشی سینئر ڈائریکٹر عمران راجپوت* اور اینٹی انکروچمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے افسران و اہلکار نکلے معتبر زرائع نے بتایا کہ کراچی میونسپل کارپوریشن کے راشی سفارشی افسران کراچی میں ہسپتالوں میں جانے والی ایمبولینسوں میں شہریوں کی شہادتوں کی مصدقہ اطلاعات کے باوجود بھتہ خوری کرنے میں مصروف ہیں اور کراچی بھر سے اینٹی انکروچمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے راشی سفارشی افسران سالانہ مجموعی طور پر 2 ارب روپے سے زائد بھتہ وصول کر رہے ہیں زرائع نے مزید بتایا کہ کراچی میونسپل کارپوریشن کے راشی سفارشی افسران و اہلکار ٹاور ۔ جوڑیا بازار ۔ رنچھوڑ لائن ۔ لی مارکیٹ ۔ لائٹ ہاؤس ۔ بولڈن مارکیٹ ۔ برنس روڈ ۔ صدر ۔ ریگل چوک ۔ موبائل مارکیٹ ۔ زینب مارکیٹ ۔ گرو مندر ۔ تین ہٹی ۔ لیاقت آباد ۔ لالو کھیت ۔ کریم آباد ۔ عائیشہ منزل ۔ نصیر آباد ۔ سہراب گوٹھ ۔ گولیمار ۔ پاک کالونی ۔ گلبہار ۔ رضویہ ۔ بنارس چوک ۔ اورنگی ٹاؤن ۔ شیر شاہ ۔ کیماڑی ۔ دو منٹ چورنگی ۔ ملیر ۔ سعود آباد ۔ لانڈھی ۔ کورنگی ۔ قیوم آباد ۔ گلشن اقبال ۔ گلستان جوہر ۔ جوہر موڑ ۔ بہادر آباد ۔ شاہراہِ قائدین ۔ طارق روڈ ۔ شیریں جناح کالونی ۔ کورنگی کراسنگ چوک ۔ آئی آئی چندریگر روڈ ۔ منظور کالونی ۔ محمود آباد ۔ پاسپورٹ آفس ۔ عبداللہ ہارون روڈ ۔ گڈاپ ۔ مومن آباد ۔ بلدیہ ۔ حیدری کے علاؤہ 26 ٹاؤنز کی حدود میں مارکیٹس ۔ ٹھیلے پتھارے والوں اور انکروچمنٹ مافیاز کے علاؤہ کنٹونمنٹ بورڈز کی حدود سے بھی روزانہ کی بنیاد پر باقاعدہ بھتہ وصول کرتے نظر آتے ہیں جو کہ سالانہ بھتہ مجموعی طور پر 2 ارب روپے سے زائد بنتے ہیں کراچی میونسپل کارپوریشن کے اینٹی انکروچمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے راشی سفارشی افسران و اہلکار بلا خوف و خطر بھتہ وصول کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب شہر بھر میں اینکروجمنٹ کی وجہ سے ٹریفک جام روز کا معمول بن چکا ہے جس کی وجہ سے ایمرجنسی میں ہسپتالوں میں جانے والی ایمبولینسوں میں مریضوں کو شدید زہنی ازیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ٹریفک پولیس علاقہ پولیس اور شہریوں کا کہنا ہے کراچی کی سڑکوں پر اینکروجمنٹ کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک جام میں شہریوں کی ایمبولینسوں میں شہادتیں روز کا معمول بن چکا ہے جبکہ ٹریفک پولیس کے افسران کا کہنا ہے کہ ہمارے پاس تو اختیارات اور وسائل نہیں ہیں ہم اینکروجمنٹ کرنے والی مافیاز کے خلاف قانونی کارروائی کر سکیں ہم تو ایک ٹھیلے پتھارے والے کے خلاف بھی قانونی کاروائی کرنے کے اختیارات نہیں رکھتے ۔ شہریوں نے وزیراعلی سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سے اپیل کی کہ اینکروجمنٹ کرنے والی مافیاز کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کے احکامات جاری کیے جائیں تاکہ ایمرجنسی میں ہسپتالوں میں جانے والے شہریوں کی قیمتی زندگیوں کو بچایا جا سکیں ۔