چراغ تلے اندھیرا
ڈی پی او قصور طارق عزیز سندھو صاحب ایک میرٹ پسند انسان ہیں آپ کے ماتحت عملہ آپکا حکم ماننے کو تیار نہیں پروین بی بی ڈی پی او قصور کو درخواست دی اور وہ مارک ہو کر سنوائی کے لیے ڈی ایس پی آفس بھیج دی گئی وہاں پر ایس ایچ او تھانہ صدر مہر شریف کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی ریڈ نہیں کروائی جس کی فوٹیج آپ دیکھ سکتے ہیں اس کے بعد معزز عدالت عظمیٰ میں رٹ پٹیشن دائر کی گئی جس پر پروین بی بی کو دوبارہ ڈی ایس پی آفس صدر سرکل قصور میں بلایا گیا اور دوسری پارٹی کی بات سننے کے بعد بی بی کی کوئی بات نہیں سنی گئی اور ڈی ایس پی صدر سرکل قصور نے پروین بی بی کو دفتر سے باہر نکال دیا۔ڈی پی او قصور سے ڈی ایس پی صدر سرکل کا آفس عوام کا آفس ہے اپنے ماتحت عملہ کو سمجھائیں عام عوام سے کس طرح پیش آنا ہے۔یہ کہاں کا قانون ہے کہ تھانہ کے محرر فاروق کے کہنے پر مجبور خاتون کے گھر آپ بغیر وارنٹ گرفتاری اور بغیر لیڈی کانسٹیبل آپ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے عورتوں کی عزت کو بھی نہ دیکھیں کل دوبارہ پروین بی بی کو سنوائی کے بغیر ڈی ایس پی صدر سرکل نے آفس سے باہر نکال دیا یہ کہاں کا قانون ہے عام عوام کے ساتھ بد سلوکی کی انتہا ہے یہ آصف وغیرہ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہیں اور صرف درخواست پر غیر قانونی ریڈ کروا رہے ہیں اور اعلیٰ حکام بالا نے بھی خاموشی سادھ لی ہے یاد رہے کہ چند دن پہلے ایس ایچ او مہر شریف اور محرر فاروق نے غیر قانونی طور پر ریڈ کروائی تھی جس کے بعد ایس ایچ او مہر شریف تھانہ صدر اور محرر فاروق کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کی گئی تھی جسکی ڈی ایس پی آفس میں ہیئرنگ تھی بی بی کو سنے بغیر دفتر سے نکال دیا گیاکہ بی بی آپ نے میڈیا پر خبر لگوائی تھی جاؤ جو کرنا لو ہم لکھ کر بھیج دیں گے ۔۔