161

مار نہیں پیار مگر یہ لفظ دیواروں پر لکھا ہی رہ گیا عملی طور پر کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی گورنمنٹ سکول میں بچو کے ساتھ تشدد کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں بہاولپور کے

مار نہیں پیار مگر یہ لفظ دیواروں پر لکھا ہی رہ گیا

عملی طور پر کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی گورنمنٹ سکول میں بچو کے ساتھ تشدد کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں
بہاولپور کے

گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول جاگیر بھٹی ڈاہر
میں بھی ایک ایسا ہی واقع رونما ہوا ہے مگر سرکاری ٹیچر کا کوئی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گی ٹیچر نے بچی کو مار مار کر زخمی کر دیا اور بچی کے گھر والوں کو

بھی نہیں بتایا

بچی شدید زخمی ہوئی ہے بچی کے والدین کا کہنا ہے کہ ہم نے CEO محمد اکرم کو بھی درخواست لکھی ہے مگر ہمیں انصاف نہیں ملا

ایک اور زرائع سے معلوم ہوا ہے کہ

مار نہیں پیار مگر یہ لفظ دیواروں پر لکھا ہی رہ گیا

عملی طور پر کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی گورنمنٹ سکول میں بچو کے ساتھ تشدد کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں
بہاولپور کے

گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول جاگیر بھٹی ڈاہر
میں بھی ایک ایسا ہی واقع رونما ہوا ہے مگر سرکاری ٹیچر کا کوئی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گی ٹیچر نے بچی کو مار مار کر زخمی کر دیا اور بچی کے گھر والوں کو

بھی نہیں بتایا بچی شدید زخمی ہوئی ہے بچی کے والدین کا کہنا ہے کہ ہم نے CEO محمد اکرم کو بھی درخواست لکھی ہے مگر ہمیں انصاف نہیں ملا ہماری بچی کو مارنے والی ٹیچر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکی اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو بچے سکول چھوڑ کر خوف کے مارے گھروں میں ہی بیٹھ جائیں گے تو تعلیم حاصل کرنا تو دور کی بات ہے یہ بچے کل کو ملک کا بوجھ کیسے اٹھائے گئے بغیر تعلیم کے ہماری آلا حکام سے درخواست ہے کہ اس ٹیچر کے خلاف کارروائی کی جائے چیف سیکرٹری پنجاب اور چیف سیکرٹری ایجوکیشن سے ایپل ہے یہ اس واقعے کی تحقیقات کی جاے اور ہمیں انصاف دلایا جائے مزید جانتے ہیں بچی کے والد سے

میس رئیسہ عمر DDO(W-EE) .BWP صدر سے بنیادی طور پر . لودھرا سے تعلق کرتی ہے..لیکن ہم سے بی ڈبلیو پی صدر تحصیل کا مرکز مصفر خانہ ..کی.تمام خواتین ٹیچرز کے لیے فرعون بنی ہوئی ہے..کیو کے سی ای او آفس ما جو نواز ہا وہ اس کا منہ بولا بھائی ہا…ایس لیے وہ ..ڈی ای او خدیجہ سے بھی اپنی من پسند فیصلے کروتی رہی
اسی وجہ سے

ہماری بچی کو مارنے والی ٹیچر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکی اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو بچے سکول چھوڑ کر خوف کے مارے گھروں میں ہی بیٹھ جائیں گے تو تعلیم حاصل کرنا تو دور کی بات ہے یہ بچے کل کو ملک کا بوجھ کیسے اٹھائے گئے بغیر تعلیم کے ہماری آلا حکام سے درخواست ہے کہ اس ٹیچر کے خلاف کارروائی کی جائے چیف سیکرٹری پنجاب اور چیف سیکرٹری ایجوکیشن سے ایپل ہے یہ اس واقعے کی تحقیقات کی جاے اور ہمیں انصاف دلایا جائے مزید جانتے ہیں بچی کے والد سے

میں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں