خیبرپختونخوا کے علاقے باجوڑ میں افسوس ناک خبر سے آپ کو آگاہ کرتے چلے کہ
باجوڑ میں دھماکہ ہلاکتوں کا خدشہ
خیبرپختونخوا کے علاقے باجوڑ میں افسوس ناک خبر سے آپ کو آگاہ کرتے چلے کہ
باجوڑ میں دھماکہ ہلاکتوں کا خدشہ
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہسپتال میں 85 کے قریب زخمیوں کو منتقل کر دیا گیا جس میں درجن سے زائد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہےباجوڑ
جے یو آئی کے کنونشن میں دھماکہ
ہلاکتوں کی تعداد 40 ہو گئی
85 افراد زخمی
زخمیوں میں 30 کی حالت تشویشناک
ایک بار پھر آپ کو بتاتے چلیں کہ
باجوڑ میں دھماکہ
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہسپتال میں 85کے قریب زخمیوں کو منتقل کر دیا گیا جس میں درجن سے زائد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی
باجوڑ کا دھماکا خود کش تھا، ابتدائی تحقیقات مکمل
12 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، بم ڈسپوزل یونٹ
باجوڑ میں جے یو آئی کے کنونشن میں خود کش دھماکا، مقامی امیر سمیت 40 جاں بحق
آئی جی ایف سے میجر جنرل نور ولی باجوڑ پہنچ گئے،
خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام کے کنونشن میں خود کش دھماکا ہوا ہے۔ جس میں امیر جے یو آئی خار سمیت 40 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔
دھماکے میں جمعیت علمائے اسلام-ف (JUI-F) پارٹی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب افغانستان سرحد کے قریب ضلع باجوڑ کے نواحی علاقے خار میں 400 سے زائد اراکین اور حامی جلسے کے لیے موجود تھے۔
پولیس نے دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ کے صدر مقام خار میں دھماکا ہوا ہے، دھماکا جمعیت علما اسلام کے ورکرز کنونشن میں ہوا۔ کنونشن میں شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
نگران وزیر اطلاعات
نگران وزیر اطلاعات فیروز جمال نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ افسوسناک واقعہ میں 35 افراد شہید جبکہ 200 سے زائد افراد شدید زخمی ہیں۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں مولانا ضیاء اللہ جان بھی شامل ہیں۔
دوسری طرف سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر دھماکے کے بعد جگہ کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی 40 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق
بعد ازاں نگران صوبائی وزیر صحت ریاض انور نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ میں تصدیق کرتا ہوں کہ ہسپتال میں ہمارے پاس 39 لاشیں ہیں، 17 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔
صوبائی گورنر حاجی غلام علی نے اے ایف پی کو ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی۔
تاہم ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے بتایاکہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں 40 سےزائد افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں۔ دھماکے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہیں، شدید زخمیوں کو پشاور منتقل کر دیا گیا ہے،
ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افسرباجوڑ نے کہا ہے کہ زخمیوں کو تیمرگرہ اور پشاور بھی منتقل کیا جا رہا ہے جن میں سےمتعدد کی حالت تشویشناک ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122
ترجمان ریسکیو 1122 بلال فیضی کے مطابق باجوڑ کے صدر مقام خار کے علاقے نادرہ آفس کے سامنے دھماکے کے باعث 200 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ تمام سٹاف ہسپتال میں موجود ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق تمام شدید زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ جہاں پر متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
ترجمان ریسکیو کے مطابق 90 سے زائد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا، ریسکیو کے میڈیکل ٹیکنشنز کی ٹیمیں ہسپتال میں موجود ہیں، مہمند،لوئر اپر دیر، چارسدہ، سوات، پشاور سے 16 مزید ایمبولینسز اسپتال پہنچا دی گئیں ہیں، شدید 18 زخمیوں کو تیمرگرہ ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
بم ڈسپوزل یونٹ
دوسری طرف بم ڈسپوزل یونٹ کی طرف سے ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ باجوڑ میں دھماکا خودکش تھا، دھماکے میں 10سے 12 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا، جائے وقوعہ سے بال بیئرنگ ملے ہیں، دھماکے میں ہائی ایکسپلوسیو بارودی مواد استعمال ہوا۔
خون دینے کی اپیل
جمعیت کے حکام اور ہسپتال کی انتظامیہ کی طرف سے اپیل کی گئی ہے کہ تمام لوگ خون دینے کے لیے ہسپتالوں کا رُخ کریں۔
پاک فوج متحرک
باجوڑ کے صدر مقام خار میں ہونے والے دھماکے کے بعد زخمیوں کی پشاور منتقلی کے لیے پاک فوج کا ہیلی کاپٹر فراہم کر دیا گیا، آئی جی ایف سے میجر جنرل نور ولی باجوڑ پہنچ گئے۔سی ایم ایچ پشاور اور لیڈی ریڈنگ اسپتال میں الرٹ جاری کردیا گیا۔
دوسری طرف دس زخمیوں کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے پشاور ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، باجوڑ اسکاوٹس ہاسپٹل سے 12 شدید زخمیوں کو 2ہیلی کاپٹرمیں پشاورمنتقل کیا گیا، سکیورٹی فورسز کی جانب سے زخمیوں کو خون کی عطیات کا سلسلہ جاری ہے۔
باجوڑ دھماکا خودکش قرار
انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس خیبرپختونخوا کا کہنا تھاکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا خودکش تھا، جائے وقوعہ سے شواہد اکھٹےکیے جا رہے ہیں۔
ریجنل پولیس آفیسر مالاکنڈ ناصر ستی نے بھی بتایاکہ باجوڑ دھماکہ خودکش لگتا ہے، تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دھماکے کی جگہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف
اُدھر وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں باجوڑ میں جے یو ا’ئی کے ورکرز کنونشن میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پسماندگان سے افسوس اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے واقعہ پر افسوس کرتے ہیں، شہید ہونے والوں کے لیے مغفرت اور اہل خانہ کو اللہ صبر جمیل عطاء فرمائے۔
وزیراعظم نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں، واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کی نشاندہی کی جائے۔
مولانا فضل الرحمن کا وزیراعظم کو ٹیلیفون
ترجمان جے یو آئی ف کے مطابق مولانا فضل الرحمان کا وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ اس دوران انہوں نے جلسے میں دھماکے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کو باجوڑ سے پشاور تک ہیلی کاپٹر فراہم کیا جائے جس پر وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کی درخواست پر باجوڑ سے پشاور ہیلی کاپٹر بھجوانے کی احکامات جاری کردئیے۔
اُدھر دھماکے کے فوری بعد مولانا فضل الرحمان نے بیرون ملک کا نجی دورہ منسوخ کر کے واپس پاکستان پہنچنے کا فیصلہ کیا ہے اور آج رات ہی پاکستان واپس پہنچ رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق امیر جے یو آئی کا فاٹا کے امیر رکن قومی اسمبلی مولانا جمال الدین اور اعلیٰ حکام سے بھی رابطہ ہوا ہے اور تمام حالات کی تفصیل حاصل کی ہیں۔
نواز شریف
سابق وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ باجوڑ میں جمیعت علماء اسلام (ف) کے ورکرز کنونشن میں دھماکا قابلِ مذمت اور انتہائی افسوسناک ہے۔ قیمتی جانوں کے نقصان پر دل شدید رنجیدہ ہے۔ اللّہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں وہ تمام لواحقین کو صبرِجمیل اور زخمیوں کو جلد از جلد مکمل صحت یابی عطا فرمائے۔ اس سانحہ پر اپنے بھائی سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن اور کارکنوں سے اظہارِ تعزیت کرتا ہوں اور ان کے غم میں برابر کا شریک ہوں۔
ترجمان جے یو آئی ف خیبرپختونخوا
جمعیت علمائے اسلام خیبرپختونخوا کے ترجمان عبدالجلیل جان نے بتایا کہ ورکرز کنونشن میں 4 بجے کے قریب مولانا لائق کی تقریرکے دوران دھماکہ ہوا۔ ایم این اے مولانا جمال الدین اورسینیٹر عبدالرشید بھی کنونشن میں موجود تھے جبکہ تحصیل خار کے امیرمولانا ضیاء اللہ دھماکے میں جاں بحق ہوئے۔
حافظ حمد اللہ
سماء ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما حافظ حمداللہ نے کہا کہ ہمارے پاس جو اطلاع ہے اس کے مطابق متعدد کارکن شہید ہو چکے ہیں اور کئی درجن زخمی ہیں۔دھماکے کی مذمت کرتے ہیں، اس کنونشن میں مجھے بھی جانا تھا لیکن میں ذاتی مصروفیت کی وجہ سے وہاں نہیں جا سکا۔
انہوں نے کہا کہ حافظ حمداللہ نے کہا کہ میں حملہ کرنے والوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اگر وہ اسے جہاد کہتے ہیں تو یہ جہاد نہیں ہے، یہ فساد اور کھلم کھلا دہشت گردی ہے، یہ انسانیت پر حملہ ہے، پورے باجوڑ اور ریاست پر حملہ ہے۔میں ریاست اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس دھماکے کی تحقیقات ہونی چاہیے، یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ بار بار ہوتا رہا ہے، اس سے پہلے بھی باجوڑ میں ہمارے مختلف سطح کے عہدیداروں کو شہید کیا گیا جس پر ہم نے پارلیمنٹ میں بھی آواز اُٹھائی لیکن آج تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔
عمران خان
اُدھر پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ باجوڑ میں دھماکے کے بارے میں جان کر افسوس ہوا جس میں 40 قیمتی جانیں گئیں جبکہ 150 دیگر زخمی ہوئے۔ میری تعزیت اور خیالات متاثرین کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ پاکستان بھر میں خاص طور پر خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ، ہماری ترجیحات پر نظر ثانی کرنے کی فوری ضرورت کا مطالبہ کرتا ہے۔
چیئر مین پی ٹی آئی نے لکھا کہ اقتدار میں رہنے والوں کو اپنی توجہ سیاسی انجینئرنگ سے ہٹ کر ریاست کی کوششوں اور وسائل کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی طرف موڑنا چاہیے۔ پاکستان دہشت گردی کی ایک اور لہر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
مریم نواز
پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ باجوڑ میں جمیعت علماء اسلام ف کے ورکرز کنونشن میں دھماکہ نہایت افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ قیمتی جانوں کے نقصان پر ہر آنکھ اشکبار ہے، اللّہ تعالی لواحقین کو صبر جمیل اور زخمیوں کو صحت عطا فرمائے۔ مسلم لیگ ن اس المناک سانحہ پر سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن صاحب اور کارکنوں سے اظہار تعزیت کرتی ہے۔
وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ
اُدھر وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے ٹویٹر پر لکھا کہ باجوڑ میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہیں، قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس ہوا، شہداء کے بلندی درجات کیلئے دعا گو ہوں، دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائیاں ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتیں، مٹھی بھردہشت گرد عناصر کو جلد ختم کر کے دم لیں گے، ملک دشمن عناصر افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں، مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ متعلقہ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
آصف زرداری
دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جے یو آئی ف کے کنونشن میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہیں، دہشت گرد سب کے دشمن ہیں، سوات کی طرح پورے ملک کو دہشتگردی کی نرسریوں سے پاک کرنے کی ضرورت ہے، بم دھماکے میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری
اُدھر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے نے کہا کہ باجوڑ میں جے یو آئی ف کے کنونشن میں بم دھماکے کی مذمت کرتے ہی، شہداء کے خاندانوں اور جے یو آئی ف سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہیں
گھڑی میں متاثرہ خاندان اور پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پختونخوا میں جاری بدامنی پر تمام جماعتیں خاموش ہیں۔ ہم گذشتہ چارسال سے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ یہاں دہشتگرد منظم ہورہے ہیں لیکن کسی نے بات نہیں سنی۔ یہاں تک کہ دہشتگردوں کو دوبارہ آباد کرنے کیلئے معاہدے کئے گئے جس کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہیں۔ ہم آج بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں مزید ایندھن نہ بنایا جائے اور روک تھام کیلئے واحد حل نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کرنی ہوگی جنہوں نے دہشتگردوں کی دوبارہ آبادکاری کی اور انہیں ’فائٹرز‘ قرار دیا تھا۔
تیمور جھگڑا
پاکستان تحریک انصاف کے سابق رکن صوبائی اسمبلی تیمور جھگڑا نے ٹویٹر پر لکھا کہ باجوڑ میں جے یو آئی ف کے ورکرز کنونشن میں دھماکے کی مذمت کرتے ہیں۔ ہمارے سیاسی اختلافات کچھ بھی ہوں، بطور انسان، بطور پشتون اور بطور پاکستانی، ہم ایک ہیں۔ ان تمام لوگوں کے لیے جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں، ان کے اہل خانہ کے لیے اور تمام زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔پاکستان کو بہت سی جنگیں لڑنی ہیں۔ یہ بھی دعا ہے کہ ہم صحیح لوگوں کو چن سکیں۔ پختونخواہ کو دوبارہ خون بہنے نہیں دینا چاہیے۔
عبد الغفور حیدری
جمعیت علمائے اسلام کے سیکریٹری جنرل عبدالغفور حیدری نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کے حالات خراب کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام ایک پُرامن جماعت ہے، ہم نے ہمیشہ پُرامن سیاسی جدوجہد کا راستہ اپنایا، دھماکے میں کارکنوں کی شہادت کی خبر سن کر شدید صدمہ پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعتی کارکنان ہمارا قیمتی نظریاتی اثاثہ ہے۔ زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔
عبدالغفور حیدری نے انصارالاسلام کے رضاکاروں کو خون دینے کے لیے ہسپتال پہنچنے کی ہدایت بھی کی۔
مفتی منیب الرحمان
اُدھر مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئر مین مفتی منیب الرحمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ باجوڑ میں جلسے پردہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، یہ تخریب اور فساد فی الارض ہے، یہ عناصر اسلام اور انسانیت کے دشمن ہیں، دہشت گردی کی یہ نئی لہر ہمارے ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، دہشت گردوں کی کمین گاہوں اور سہولت کاروں کی کھوج لگاکر ان کا قلع قمع کیا جائے۔
افغان طالبان
خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد افغان طالبان نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔،
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک بیان میں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے لکھا کہ امارت اسلامیہ نے خیبر پختونخوا کی باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام سے متعلق اجلاس میں دھماکے کی مذمت کرتے ہیں، متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ شہداء کو اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے، ایسے جرائم کسی طور پر بھی جائز نہیں ہیں۔