191

۔ ھم برطانوی مسلمان مذہبی آزادی پر مکمل یقین رکھتے ھیں ۔۔ ۲۔ھم برطانوی مسلمان ۔دیگر مذاہب کے ساتھ مشترکہ امور۔۔ مثلاً انسانیت کی خدمت ، دنیا میں

•••••••••••••••••••••••••••••
*عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں ھماری
حکمت عملی کیا ھونی چاہئیے *۔۔۔۔۔
••••••••••••••••••••••••••••

1۔ ھم برطانوی مسلمان مذہبی آزادی پر مکمل یقین رکھتے ھیں ۔۔
۲۔ھم برطانوی مسلمان ۔دیگر مذاہب کے ساتھ مشترکہ امور۔۔ مثلاً انسانیت کی خدمت ، دنیا میں امن و سلامتی، انسانی حقوق کی بحالی، ظلم و بربریت کے خلاف مشترکہ جدوجہد اور ملک برطانیہ کی تعمیر و ترقی ،اور ملکی سلامتی وغیرہ ۔۔ پر مکمل یقین رکھتے ھیں ۔۔ اور ان امور میں شمولیت اپنا دینی، اخلاقی اور ملکی فریضہ سمجھتے ھیں۔۔۔

۳۔۔یاد رھے عقیدہ ختم نبوت ھم اھل اسلام کا بنیادی عقیدہ ھے ۔ اس عقیدہ پر کامل یقین اور ایمان رکھے بغیر کوئی انسان مسلمان ھی نہیں کہلا سکتا۔ ۔ یہ عقیدہ توحید کی طرح ھمارا بنیادی عقیدہ ھے ۔۔ اس عقیدہ کے بغیر اسلام کا دائرہ ھی مکمل نہیں ھوتا ۔۔ھمارا عقیدہ ختم نبوت یہ ھے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ھمارے پیارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی کے آخری نبی ھیں اور اب آپ کی بعثت مقدسه کے بعد کو ئی نبی پیدا نہیں ھو سکتا ۔۔ ۔۔
اب جوکوئی ھمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت کا دعوی کرے ۔۔

نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ھمیں صریحاً آگاہ فرما دیا ۔۔میرے بعد کذاب پیدا ھو ں گے جو نبی ھونے کا جھوٹا دعوی کریں گے ۔۔
اس لئے اب اگر کوئی فرد یا جماعت ۔۔کسی قسم کی نبوت کا دعوی کرے وہ کذاب ھیں ۔۔ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔۔۔۔۔

۴۔۔جس طرح کوئی بھی مذہب اپنے بنیادی عقائد کے منکرین کو اپنے مذہب اور اس کے شعائرکا نام استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی طرح عقیدہ ختم نبوت کے منکرین کا کوئی بھی گروہ اگر اسلام کا نام استعمال کرے تو اس کے خلاف ملکی قوانین کی دی گئی اجازت کے مطابق احتجاج ریکارڈ کروانا اہل اسلام کا بطور برطانوی شہری بنیادی حق ہے جسے تسلیم کیا جانا ضروری ہے۔تاکہ ھمارے دینی شعار اور ھماری شناخت برقرار رھے ۔ ورنہ ھماری مسلم کمیونٹی اور ھماری آنے والی نسلوں کیلئے اسلام کے اصل بنیادی عقائد کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ھونے کا خطرہ ھو سکتا ھے۔۔۔۔۔
۵۔۔ھمارا یہ مؤقف عالمی اور برطانوی طے شدہ قوانین کے مطابق ھے ۔۔ ھمارا یہ عقیدہ رکھنا ھمارا بنیادی حق ھے ۔۔ اس کا تعلق قطعا مذہبی منافرت اور شدت پسندی سے نہیں ھے ۔۔ اس لیئے ھمارا۔۔۔ اس عقیدے پر یقین رکھنےاور اس عقیدے کی تبلیغ کرنے کو ۔۔۔۔۔ انتہا پسندی اور شدت پسندی سے جوڑنا انتہائی بد دیانتی اور نا انصا فی ھے ۔۔

۶۔۔۔یہ بھی یا د رھے … ھم مکالماتی رویوں پر یقین رکھتے ھیں ۔۔ ھمارے بنیادی عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے کسی شخص ، ادارے یا جماعت کو کسی قسم کا کوئی ابہام یا اشکال ھو ۔۔ تو ھمارے سکالرز ھر وقت مہذب انداز میں گفتگو کرنے کے لیئے تیار ھیں۔۔۔۔ یہ اھل اسلام کا اجماعی ، قطعی اور بنیادی عقیدہ ھے ۔۔اس حوالے سےھمیں کسی قسم کی دلیل کی بھی ضرورت نہیں ۔۔۔ ھمارے نزدیک اب کوئی مسلمان کسی مدعی نبوت سے شک میں مبتلا ھو کر نبوت کی دلیل طلب کرے وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ھے ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں