جو آنکھیں کھول دے ، وہی تو حقیقت ہے منصوبہ بندی سے سستی شہرت حاصل کرنے والی ٹک ٹاکر عائشہ اکرام کی بےباکیاں ملاحظہ فرمائیں ، یہی ہے اس لڑکی کا اصل روپ . سرکاری ملازم عائشہ پیشے کے اعتبار سے نرس ہے اور ڈیوٹی ٹائم میں بھی ٹک ٹاک بنانے کا جرم کرتی رہتی ہے اس لڑکی نے اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے لوگوں کی کثیر تعداد کو گریٹر پارک میں ناصرف جمع کیا بلکہ اپنے فینز کے جذبات ابھارے اور خود کو دانستہ بے آبرو بھی کروایا نسوانیت کی اس توبین پر پاکستان کی ہر ماں بیٹی
شرمندہ ہے اس ٹک ٹاکر نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مینار پاکستان جیسی تاریخی یادگار کے سبزہ زار کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کسی اسٹیج کی طرح استعمال کیا اور پاکستان کے ماتھے پر کلنک کا داغ بنی ۔ فین فالوئنگ بڑھانے کی غرض سے اس دو ٹکے کی ٹک ٹاکر کی منصوبہ بندی، ملکی ساکھ کے تقدس پر آنچ لانے کا سبب بنی اور پوری دنیا میں پاکستانی مرد کرپٹ اور سیکشوئل براسمنٹ کا سمبل بن کر بدنام ہو گئے ، ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عائشہ عمر قومی مجرم ہے ، اس پر مقدمہ کیا جائے ، اسے کڑی سزا کے علاوہ مینار پاکستان جیسے بیش قیمت تاریخی ورثے کی حرمت و تقدس کو پامال کرنے کی پاداش میں بھاری نقد جرمانہ بھی کیا جائے تاکہ آئندہ کسی اور کو اس قسم کے ٹوپی ڈرامے کرنے کی جرات نہ ہو اور ایسے شرمناک واقعات کا سدباب ہو سکے