جہانگیر ترین،بیٹے علی ترین اور داماد ولید اکبر فاروقی پر اربوں روپے فراڈ کے مقدمات درج،
پہلے ہی ایف آئی اے کے نوٹس کے جواب میں ٹھوس تفصلی جوابات جمع کراچکا ہوں،
مجھے دکھ ہے کہ میرے اور میرے خاندان کے خلاف کوئی غیرقانونی عمل ثابت نہ ہونے کے باوجود بھی بہتان تراشی کی جارہی ہے۔جہانگیرترین
جہانگیرترین اور ان کے بیٹے علی ترین اور داماد ولید اکبر فاروقی کے خلاف مبینہ فراڈ اور منی لانڈرنگ کے مقدمات درج کرلیے گئے ہیں ۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے لاہور نے چینی اسکینڈل میں جے ڈی ڈبلیو کےسی ای اوجہانگیر ترین ، ان کے بیٹے علی ترین کیخلاف ایف آئی آر درج کرلی جبکہ داماد ولیداکبر فاروقی اورشاہداکبر فاروقی اور کمپنی سیکرٹری محمد رفیق کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ بندفیکٹری میں پیسے لگا کر 3ارب سے زائد کی منی لانڈرنگ کی گئی، سی ای او جے ڈی ڈبلیو نے جعلسازی سے 3 ارب 14 کروڑ بند کمپنی کو منتقل کئے۔
ایف آئی آر میں چینی کی ذخیرہ اندوزی، خوردبرد اور دھوکہ دہی کا بھی الزام لگاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جہانگیر ترین نے اپنے اور اہلخانہ کے ذاتی مفاد کیلیے بند کمپنی کو رقم منتقل کی، 12-2011 میں 3ارب سے زائد رقم فاروقی پلپ ملک لمیٹڈ کمپنی کو منتقل کئےگئے۔
ایف آئی آر کے مطابق 12-2011 میں جہانگیر ترین اور اہلخانہ نے اوپن مارکیٹ سے ڈالر خریدے، انھوں نے خاص طریقہ کار پر ڈالر خریدے تاکہ گرفت میں نہ آسکیں۔درج ایف آئی آر میں کہا کہ جہانگیر ترین نے 35ہزار ڈالر سے کم خریدے تاکہ نظر میں آسکیں جبکہ نامزد افراد نے جائیدادوں کیلئے 70 لاکھ سے زائد ڈالر بیرون ملک منتقل کئے۔
دوسرے مقدمے میں کمپنی اکاؤنٹس سے غیر قانونی ٹرانزکشنز کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا جہانگیر ترین کے قابل اعتماد آدمی عامر وارث نے کمپنی اکاؤنٹس سے غیر قانونی ٹرانزکشنزکیں، عامر وارث نے غیرقانونی طریقےسےکمپنی اکاؤنٹس سے 2ارب سےزائد رقم نکلوائی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا عامر وارث نے رقم غیر قانونی طور پر جہانگیر ترین، فیملی ممبرز کے ذاتی اکاؤنٹس میں جمع کرائی، دوران انکوائری جعلی اکاؤنٹ پکڑاگیا جس میں تقریباً 6ارب روپے کی غیرقانونی ٹرانزکشنز ہوئیں۔
ایف آئی اے نے مقدمے میں کہا جعلی اکاؤنٹ سے جہانگیر ترین کے مختلف کمپنیز کے اکاؤنٹس میں ٹرانزکشنز کی گئیں، انکوائری میں پتہ چلا کمپنی چیف رانا نسیم نے مرکزی معاون کا کردار ادا کیا۔
رانانسیم نے جےڈی ڈبلیو کے اکاؤنٹ سے 60کروڑ سے زائد کی ٹرانزکشنز کیں۔ایف آئی آر کے مطابق رانانسیم کادعویٰ ہے ٹرانزکشنز تنخواہوں اور بونس کی مد میں کیں جبکہ دوسری جانب پچھلے 5سال سے کمپنی مسلسل خسارے میں تھی ۔
جہانگیر ترین نے جےڈی ڈبلیو کے فنڈزمیں خوربورد کی جبکہ جہانگیر ترین ،عامر وارث ،رانا نسیم منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔
جہانگیر ترین نے ان الزامات پر اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ایف آئی اے کی جانب سے مجھ پر عائد کئے گئے الزامات جھوٹ کا پلندہ ہیں –
جہانگیر ترین نے کہا کہ میں پہلے ہی ایف آئی اے کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹس کا بمع ٹھوس شواہد تفصیلی جواب جمع کرا چکا ہوں –
جہانگیر ترین بے کہا کہ مجھے دکھ ہے کہ میرے اور میرے خاندان کے خلاف کوئی غیر قانونی عمل ثابت نہ ہونے کے باوجود بہتان تراشی کی جا رہی ہے –
واضح رہے کہ ایف آئی اے نے شوگرمافیا کے گرد شکنجہ مزید سخت کرتے ہوئے 8 بڑے شوگرملز مالکان کو طلبی کے نوٹسز جاری کئے تھے اور تما م ریکارڈ ساتھ لانے کا بھی حکم دیا تھا۔
ایف آئی اے ذرائع کے مطابق چوہدری شوگر مل (مریم نواز) کو 31مارچ ، رمضان شوگرمل(حمزہ شہباز) کو 2اپریل ، جے ڈی ڈبلیو شوگر مل (جہانگیرترین) کو 2 اپریل کو طلب کیا گیا ہے۔