صوبے کے انتہاٸی حساس سرحدی ڈویژن میرپورخاص کو منشیات کے اسمگلر و ڈیلرز مضبوط سیاسی پشت پناہی اور اثرورسوخ، مقامی صوباٸی انتظامیہ کی غفلت و نااہلی کے باعث منشیات کی بین الاقوامی راہداری اور مرکز بناچکے ہیں۔ منشیات اسمگلروں اور اس مافیا کے خلاف صوباٸی اور مقامی انتظامی حکومتی ناکامی اور بے بسی کے بعد پاک فوج کے ذیلی ادارے اے این ایف کی اس حساس سرحدی ڈویژن میں موثر اور جامعہ کامیاب کارواٸیاں جاری۔ کاروائی کی ابتدا ہی میرپورخاص سندھ پولیس کے انسپیکٹر اور مضبوط سیاسی اثرو رسوخ کے حامل منشیات کے بےتاج بادشاہ اور مافیا کے ڈان کنور سنگھ سوڈھو سے کی گٸی۔ پوری دہاٸی سے یہ انسپیکٹر اپنے مضبوط سیاسی اثرورسوخ اور طاقت کے بل بوتے پر ضلع کے اہم ترین تھانوں (ٹاٸون، غریب آباد، پرانی میرپور، میرواہ گورچانی) پر مسلسل ایس ایچ او تعینات رہا ہے اس دوران اس نے اپنے منشیات اور دیگر جراٸم کے مکروہ دھندوں کا مظبوط اور وسیع بین الاقوامی نیٹ ورک قاٸم کیا جسے ارض پاک کے پاسبانوں (اے این ایف) نے مقامی انتظامیہ کی ناکامی اور بے بسی کے بعد خود کاروائی کرتے ہوٸے انسپیکٹر کے بنگلے سے دو ارب روپے کی منشیات جدید اسلحہ قیمتی ولایتی شراب برآمد کرکے کسی دباٸو میں آٸے بغیر میرٹ پر مقدمہ درج کیا اور تاحال اس مکروہ دھندے کی باقیات کو تلاش کرکے کچلا جارہا ہے جبکہ گذشتہ رات تفتیش کے داٸرہ کار کو بڑھاتے ہوٸے مزید 500 کلوگرام چرس و افہیم اسلحہ گاڑی اور دو ملزمان گرفتار کرلیے گٸے۔ انسپیکٹر کے گھر میں لگے سی سی ٹی وی کیمراز کی فٹیج سے بھی تفتیش میں بہتر مدد ملنے اور دیگر ساتھیوں و سہولت کاروں کا سراغ ڈھونڈا جارہا ہے۔ ہمارے ملک میں ہرسال نشہ کرنے والوں کی تعداد میں پانچ لاکھ کا اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری سطح پر اے این ایف‘ کسٹم اور ایکسائز سمیت 24 ایجنسیاں منشیات کے خلاف فعال ہیں۔ ہمارے ہاں پکڑی جانے والی منشیات میں سے 70 فیصد اینٹی نارکوٹکس فورس پکڑتی ہے جبکہ 30 فیصد باقی 23 ادارے پکڑتے ہیں. چرس، افیون، ہیروئن، بھنگ اور حشیش سمیت منشیات کی21 سے زائد اقسام ہیں۔ 62 فیصد لوگ چرس‘ بھنگ اور حشیش کے عادی ہیں جبکہ باقی 20 فیصد ہیروئن، دس فیصد افیون، آٹھ فیصد لوگ کوکین‘ کیپسول کرسٹل اور گولیاں استعمال کرتے ہیں۔ ہمارا ملک منشیات کی ایک عالمی گزرگاہ پر واقع ہے‘اس لیے یہاں انہیں فروخت کرنے والی مافیا اور استعمال کرنے والے بھی موجود ہیں۔ علاقے میں کہاں کہاں منشیات فروخت ہورہی ہے علاقہ پولیس اور دیگر ادارے اس سے باخبر ہوتے ہیں لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رہتے ہیں اسی وجہ سے ایماندار اور فرض شناس پولیس اہلکاروں کے لیے جدید منشیات فروشوں اور ناسوروں تک رسائی کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔
175