*موٹروے زیادتی کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا ۔*
ملزمان کو سزائے موت کی سزا سنادی گئی
انسداد دہشت گردی کے جج ارشد حسین بھٹہ نے فیصلہ سنایا
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 40 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے تھے
جبک ملزمان عابد ملہی اور شفقت کا ڈی این اے جائے وقوعہ سے میچ کرچکا تھا۔
موٹروے زیادتی کیس میں ملزمان کے خلاف مقدمہ میں 365 اے 376/2 ،337 ایف ون، 440 کی دفعات شامل کی گئی تھی
گزشتہ سال 2020، 9 اور 10 ستمبر کی درمیانی شب موٹروے پر واقعہ پیش آیا،
دو ملزمان عابد ملہی اور شفقت نے موٹر وے پر خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایاتھا۔
سیالکوٹ موٹروے زیادتی کیس میں میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوئی تھی۔
ملزم شفقت عرف بگا کو دیپالپور سےجبکہ ملزم عابد ملہی کو اس کے قریبی عزیز کے گھر مانگا منڈی سے گرفتار کیا گیا تھا۔
ملزم شفقت بگا 14 ستمبر کو گرفتار ہوا جبکہ عابد ملہی 12 اکتوبر کو گرفتار ہواتھا۔
عدالت کی جانب سے دونوں ملزمان کا پچیس پچیس دن کا جسمانی ریمانڈ لیا گیا تھا۔
دوران تفتیش ملزم عابد ملہی سے پسٹل برآمد ہوا جبکہ ملزم شفقت بگا سے ڈنڈا برآمد کیا گیا تھا۔
انسپکٹر ذولفقار چیمہ نے ملزمان سے تفتیش مکمل کر کے چالان عدالت پیش کیاتھا۔
ملزمان کا کینٹ کچہری کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو بھی بیان قلمبند کرایا تھا۔
ملزمان نے کینٹ کچہری کےمجسٹریٹ کے سامنے اقبال جرم بھی کیا تھا۔
جبکہ بعدازاں ملزمان نے انسداد دہشت گردی عدالت میں وقوعہ سے انکاری کا بیان دیا تھا۔
ملزمان کے خلاف سرکاری وکلا وقار عابد بھٹی، حافظ اصغر اور عبدالجبار ڈوگر نے دلاٸل دیئے تھے۔
ملزم شفقت بگا کو 15 ستمبر 2020 جبکہ مرکزی ملزم عابد ملہی کو 12 اکتوبر 2020 کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔
موٹروے زیادتی کیس کے جیل ٹرائل کا آغاز 24 فروری 2021 کو کیا گیاتھا
ملزموں پر 3 مارچ 2021 کو فرد جرم عائد کی گئی جبکہ عدالت نے 17 دن کے قلیل وقت میں کیس کا جیل ٹراٸل مکمل کیا