258

پاکستان کے خلاف سازش کرنے والے ہمیشہ ناکام ہونگے۔

اسرائیلی طیارہ پاکستان میں، افواہ پھیلانے کا مقصد کیا تھا؟ جانیے
سب سے پہلے یہ جان لیں کہ جس طیارے (Global Express XRS 9394) کو اسرائیلی بناکے پیش کیا گیا وہ اسرائیل کا تھا ہی نہیں. دوسری بات اس طیارے نے پاکستان میں لینڈنگ کی ہی نہیں اور تیسری بات خبر دینے والا صحافی بھی پاکستان کا دشمن صیہونی اور اسرائیل کا ہی شہری تھا.
جس اسرائیلی صحافی نے یہ ‘جھوٹی خبر’ پھیلائی اس کا نام “ایوی شراف” ہے، یہ ایک اسرائیلی اخبار کا مدیر ہے. (ممکنا اسرائیلی موساد کا میڈیا ایجنٹ ہے). اب سوال یہ ہے کہ ایک اسرائیلی یہودی کی ‘جھوٹی خبر’ کو پاکستانی میڈیا نے سچ بناکر کس مقصد کے لیے پیش کیا؟
اسلام و پاکستان کے دشمن اس صیہونی کی خبر کو پاکستانی مسلمان میڈیا صبح سے سچ بناکے پھیلاتا رہا اور رات کو پھر اسی صحافی نے اپنی ہی خبر کو جھوٹ قرار دیکر پاکستانی میڈیا کے منہ پر زوردار تھپڑ رسید کردیا، گویہ کہہ رہا ہو کہ جاہلو بریکنگ نیوز اور ہیڈلائن دینے سے پہلے تحقیق تو کرلیا کرو.
اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :
اے ایمان والو! کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لیکر آئے، تو اچھی طرح تحقیق کرلیا کرو. کہیں ایسانہ ہو کہ تم. نادانی میں کچھ لوگوں کو نقصان پہنچا بیٹھو، ہھر اپنے کیے پر پچھتاؤ. (سوہ الحجرات، آیت نمبر 6).
سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی میڈیا کے نزدیک اسرائیلی صیہونی فاسق شخص نہیں تھا؟
کیا پاکستانی میڈیا میں کوئی تحقیق بھی کرتا ہے یا سب اندھوں کی طرح خبریں پھیلاتے ہیں؟
صحافی کیا مقدس گائے ہوتے ہیں کہ جو بھی بک دیں ان پر ہم قرآن کی طرح ایمان لائیں؟
کیا صحافی کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے؟
ایک صحافی وہ بھی یہودی جس اس کا تعلق بھی اسرائیل سے، کی بات بغیر تحقیق کیسے سچ مان لی گئی وہ بھی اس “پانچویں نسل کی معلوماتی پروپیگنڈہ جنگ” میں؟ یہ سب چیخ چیخ بتا رہا ہے کہ ہمارے میڈیا کے صحافی اعلی قسم کے گدھے اور پانچویں نسل کی معلوماتی جنگ سے مکمل لاعلم ہیں.
آئے روز میڈیا والے غلط خبریں دیکر قوم کو کنفیوز کرتے ہیں، مایوسی پھیلاتے ہیں، جب خبر غلط ثابت ہوجائے تو یہ حرام خور بس ایک رسمی سا بیان جاری کرکے دودھ کے دھلے بن جاتے ہیں. میڈیا نے اگر یہی رویہ اپنائے رکھا تو پھر میڈیا پر پابندی کی تحریک چلانے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکے گا.
اب آتے ہیں اس جھوٹی خبر پھیلانے کے پیچھے اصل مقاصد کی طرف…
اگر آپ اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ عالمی سیاست میں ایسے واقعات کا ہونا اتفاق ہے تو یقین کریں آپ یا تو احمق ہیں یا پھر عالمی محرکات سے لاعلم. آج کے دور میں عالمی سیاست میں کچھ بھی اتفاقی نہیں ہوتا بلکہ سب پہلے سے طع شدہ منصوبے کے تحت ہوتا ہے. اسرائیلی طیارے کی پاکستان میں موجودگی کی افواہ بھی ہرگز اتفاق نہیں تھا.
میرے مطابق یہ خبر “جان بوجھ کر” تین مقاصد کے لیے پھیلائی گئی.
1. پاکستان اسرائیل کو آزاد ریاست تسلیم کرے گا یا نہیں حکومتی اور عوامی موقف جاننے کی کوشش کرنا.
2. اسرائیلی پیسے پر چلنے والے میڈیا، صحافیوں اور سیاستدانوں کو استعمال کرکے عوام کا ذہن بنانا کہ “اسرائیل سے نفرت مت کرو” ، “اسرائیل ہمارا دشمن نہیں” ، “اب اسرائیل تسلیم کر لینا چاہیے” یا “کم سے کم سفارتی تعلقات شروع کردینے چاہیں” وغیرہ وغیرہ.
3. اسرائیلی وزیراعظم کی طیارے میں پاکستان کے خفیہ دورے کی جھوٹی خبر کے زریعے عمران خان کے یہودی ایجنٹ ہونے کے تاثر کو ہوا دیکر حکومت کو کمزور کروانا.
ان مقاصد کی تکمیل کے لیے اسرائیل صحافی کے ٹویٹ ہوتے ہی پاکستان میں موجود صیہونی ایجنڈے پر چلنے والے صحافی اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے روپ میں چھپے آستین کے سانپ بھی کھل کر میدان میں کود پڑے.
وقاص گورائے، بھینسے اور گدھے سمیت تمام گستاخ بلاگرز و دین و ملت کے غداروں نے مل کر طوفانی ٹویٹس شروع کردیں جبکہ اس کام میں کچھ نامور. صحافیوں نے بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوکر غالبا بڑا مال بنایا.
صحافی معید پیرزادہ نے ٹویٹ کرکے کہا :
پاکستان کا اسرائیل سے کوئی بھی حقیقی تنازعہ نہیں ہے، صرف مذھبی لیڈروں کا نظریاتی اختلاف ہے. ہمارہ اسرائیل سے نہ کوئی زمینی تنازع ہے، نہہی کوئی اور خاص مسئلہ، جب ترکی بھی اسرائیل سے سفارت تعلقات رکھ سکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں؟”
معید پیرزادہ نے کمال مہارت سے اسرائیل کو ایک معصوم ملک بناکے پیش کیا تاکہ عوام کا ذہن بنائے جائے کہ اسرائیل اتنا برا نہیں، اسے صرف مذھبی لیڈروں (علماء کرام، اولیاء اللہ، گدی نشینوں وغیرہ) نے برا بنایا ہوا ہے.
اسے کہتے ہیں” پروپیگنڈہ معلوماتی جنگ” جو کہ عوام کے ذہنوں میں ایسے ہی میڈیا کے زریعے لڑی جاتی ہے. معید پیرزادہ یا تو لاعلم ہے یا پھر پکا منافق. معید پیرزادہ سنو! فلسطین بھی ہماری زمین ہے کیا اسرائیل نے اس پر ناجائز قبضہ نہیں کر رکھا؟ قرارداد پاکستان جو قائداعظم کی رہنمائی میں منظور کی گئی اس میں واضع لکھا ہے کہ فلسطین پر قبضہ برداشت نہیں کیا جائے نہ ہی اسرائیل کو تسلیم کیا جائے گا. بقول قائد “اسرائیل کا وجود امت مسلمہ کے دل پر خنجر ہے”. پاکستان آزاد ہونے کے بعد پہلے وزیراعظم “لیاقت علی خان” کو بھی امریکی صیہونیوں نے آفر کی گئی تھی کہ آپ اسرائیل کو تسلیم کرلیں تو آپ پر پیسوں کی بارش کردی جائے گی لیکن غیرتمند لیڈر نوابزاسہ لیاقت علی خان نے انکے منہ پر تھوکتے ہوئے صاف صاف انکار کردیا.
اس کے علاوہ معید پیرزادہ کیا آپ بھول گئے کہ 1980 کی دہائی میں اسرائیلی طیاروں نے عراقی ایٹمی پلانٹ کو تباہ کرنے کے بعد ہندوستان کے ساتھ مل کر پاکستانی ایٹمی پلانٹ کہوٹہ کو تباہ کرنے کا بھی پلان بنایا تھا جسے ہمارے شاہینوں نے بروقت اطلاع پر ناکام بنایا. اگر اسرائیل سے کوئی تنازع یا دشمنی نہیں تو اسرائیلی طیارے کہوٹہ ایٹمی پلانٹ پر کیا پھول برسانے آرہے تھے؟
چلیں پرانی باتیں چھوڑتے ہیں نئی بات کرتے ہیں، موجودہ فتنے منظور پشتین اور نام نہاد پشتون تحفظ موومنٹ کو اسرائیلی سپورٹ ملنا معید پیرزداہ کو کیوں نظر نہیں آئی؟ منظور پشتین کے جلسوں میں “اسرائیلی آرمی زندہ آباد” کے نعرے کیوں سنائی نہیں دیے؟ منظور پشتین کے قائد “محمود اچکزئی” کی اسرائیلی وزیراعظم “نیتن یاہو” سے ہندوستان میں خفیہ ملاقات کیا محض چائے پینے کے لیے ہوئی تھی؟ واہ رے تیری صحافت…
اس کے علاوہ مشہور صحافی “احمد قریشی” نے بھی عوامی ذہن بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اسرائیلی صحافی کی ٹویٹ کے جواب میں کچھ اس طرح پاکستانی عوام کی نمائندگی کردی
نیتین یاہو پہلے اسرائیلی وزیراعظم ہیں جنہوں نے واضع قدم اٹھاتے ہوئے نئی دہلی کے زریعے پاکستان کو” امن اور دوستی” کا پیغام دیا. وہ جب بھی اسلام آباد آئیں، پاکستانی عوام انہیں خوش آمدید کرے گی”.
میں احمد قریشی کو ایک اچھا صحافی سمجھتا تھا لیکن اس ٹویٹ سے اس نے اپنی اوقات ظاہر کردی. احمد قریشی کیا آپ بھول رہے ہیں کہ اسرائیلی وزیر خارجہ” اویگدور لیبر مین” نے روسی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں واضع کہا تھا کہ” اسرائیل کو ایران سے اتنا نہیں خطرہ نہیں جتنا افغانستان کے اور پاکستان سے ہے، پاکستان نہ صرف اسرائیل کے لیے بلکہ عالمی امن (ون ورلڈ آرڈر) کے لیے بھی شدید خطرہ ہے”. جناب احمد قریشی! آپ اسرائیلی وزیر خارجہ کے بیان پر اپنا تبصرہ کب دیں گے؟
کون نہیں جانتا کہ یہ اسرائیل ہی ہے جس نے امریکہ کو استعمال کرکے عرب ریاستوں کو تہس نہس کردیا، عراق سے لیکر لبیا اور شام سے لیکر افغانستان تک یہ ممالک کس نے تباہ کیے؟ کون ان جنگوں کے لیے امریکہ کو پیسہ دیتا تھا؟ گریٹر اسرائیل کون بنانا کی کوششیں کر رہا ہے؟ ان سب سوالات کا صرف ایک جواب ہے “اسرائیلی صیہونی”..
قصہ مختصر….. اسرائیلی صیہونیوں نے افواہ جان بوجھ کر پھیلاکر پاکستانی عوام کی ذہنی حالت چیک کرنے کی کوشش کی ہے، اب آپ کو اکثر اسرائیلی فنڈ پر چلنے والے لوگ یہ کہتے سنائی دیں گے کہ جب عرب ممالک اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کر سکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں” یا پھر کہتے نظر آئیں گے کہ” ہمارا اسرائیل سے کوئی تنازعہ نہیں اس لیے سفارتی تعلقات قائم کرنے میں کیا حرج ہے”.
مقصد ان لوگوں کا پاکستان دباؤ ڈالنا ہے تاکہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور شروع کرے. یاد رہے اسرائیل صحافی اور پاکستانی میڈیا مہرے ہیں اصل پتے پھینکنے والے”صیہونی” ہیں.
اس وقت صحافت کے روپ میں چھپے یہ پلانٹیڈ صحافی عوام کی ذہن سازی کر رہے ہیں تاکہ ان کے میٹھے الفاظ میں آکر عوام اسرائیل کو واقعی ایک معصوم ملک سمجھنے لگے.
زرا تصور کیجیے اگر اسلام آباد اور کراچی میں اسرائیل کا سفارت خانہ کھول دیا جائے اور وہاں بیٹھ کر اسرائیلی خفیہ ایجنسی “موساد” کے ایجنٹ اپنے مضموم مقاصد پلان کرنا شروع کردیں تو پھر کیا ہوگا یہ آپ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں، پھرایسی دہشت گردی، خونریزی اور فتنوں کی زرخیزی شروع ہوجائے گی کہ پاکستانی عوام نواز شریف، الطاف حسین، محمود اچکزئی اور منظور پشتین جیسے غداروں کو بھی بھول جائے گی.
تو میرے ہم وطنوں مجھے بتاؤ کیا اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرکے ہم اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو فتنے پھیلانے کے لیے اپنے ملک میں جگہ دے دیں؟ اسرائیل جیسے اسلام و پاکستان کے دشمن نمبر ایک سے دوستی کرلیں؟ شام و عراق کی طرح اپنے پاکستان میں بھی اسرائیلی خفیہ ایجنسی کو اپنا نیٹورک پھیلانے کی اجازت دے دیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں