199

بریکینگ نیوز چکوال سلاٹر ہاؤس چکوال میں ویٹرنری ڈاکٹر کی غیر موجودگی انتظامیہ کے لیے سوالیہ نشان ہے

سلاٹر ہاؤس چکوال میں ویٹرنری ڈاکٹر کی غیر موجودگی انتظامیہ کے لیے سوالیہ نشان ہے

سلاٹر ہاوس چکوال میں بیمار اور لاغر جانور سر عام ذبح کر کے گوشت مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا ہے،قصاب ویٹرنری ڈاکٹر کی غیر موجودگی میں ملی بھگت سے گوشت پر مہریں ثبت کروا کے عوام میں بیماریاں بیچ رہے ہیں،شہری مضر صحت گوشت کھانے سے موذی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں،عوامی حلقوں نے شدید احتجاج کیا ہے ،سلاٹر ہاؤس چکوال میں شہر بھر کے قصاب لاغر اور بیمار جانور لا کر سر عام ذبح کر رہے ہیں صبح جانور ذبح کرنے کے وقت ویٹرنری ڈاکٹر پراسرار طور پر غائب ہوتا ہے اور قصاب
محکمہ لائیو سٹاک کےمنیر نامی اہلکار سے ملی بھگت کر کے بیمار جانوروں پر ہی مہریں ثبت کروا لیتے ہیں اور مارکیٹ میں گوشت فروخت کر دیتے ہیں ذبح کرنے سے پہلے جانور کے چیک اپ کا کوئی سسٹم موجود نہیں ویٹرنری ڈاکٹر کی غیر موجودگی انتظامیہ کے لیے سوالیہ نشان ہے محکمہ لائیو سٹاک کے منیر نامی اہلکار نے قصابوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور ڈاکٹر کے اختیارات بھی اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہیں سلاٹر ہاؤس میں صفائی اور پانی کا بھی کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں پنجاب حکومت کی مادہ ذبح نہ کرنے کی واضح پابندی کے باوجود چکوال سلاٹر ہاؤس میں سر عام دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں ایک ماتحت اندازے کے مطابق ایک دن میں سلاٹر ہاؤس میں10سے12 بڑے اور35سے40
چھوٹے جانور ذبح کیے جاتے ہیں مگر مارکیٹ میں 25سے30 بڑے اور 80سے90 چھوٹے جانوروں کا گوشت روزانہ فروخت ہو رہا ہے شہر کے قصابوں نے اپنے گھروں میں منی سلاٹر ہاؤس قائم کر رکھے ہیں اور مضر صحت گوشت کو پانی لگا کر مارکیٹ میں ملی بھگت سے فروخت کر رہے ہیں عوامی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے نئے تعینات ہونے والے ڈپٹی کمشنر چکوال کیپٹن(ر)بلال بن ہاشم سے مطالبہ کیا ہے کہ سلاٹر ہاؤس میں قصابوں کی محکمہ لائیو سٹاک سے ملی بھگت کا نوٹس لیا جائے تا کہ شہریوں کو مارکیٹ میں حفظانِ صحت کے مطابق تازہ گوشت مل سکے
خاور شہزاد چکوال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں