خضدار () گنگو قبیلہ کے افراد کا فیروز آباد میں با اثر شخص و بااثر لینڈ مافیاء کی جانب سے مبینہ طور پر قبائل کی جدی پشتی موروثی اراضیات پر قبضے کرنے کے خلاف احتجاجی ریلی و پریس کلب کے سامنے مظاہرہ،ایک جانب ہماری جدی پشتی مشترکہ اراضیات پر لینڈ مافیاء کا سرغنہ بااثر شخص نے قبضہ کیا ہے دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ملکر گاوں کے رہائش کے لئے مختص کردہ اراضیات پر اسٹیڈیم تعمیر کیا جا رہا ہے،جبکہ احتجاج کرنے پر ہمیں مبینہ طور پر گولیوں کا بھی نشانہ بنایا گیا حکومت و پاک فوج ہمیں انصاف فراہم کریں مظاہرین کا مطالبہ، مظاہرین ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن میں قابضین کے خلاف نعرے درج تھے تفصیلات کے مطابق فیروز آباد کلی گنگو کے قبائلی معتبرین ٹکری عبدالحکیم گنگو،سعد اللہ گنگو،طلال احمد راہی،مرتضی کمال،کامران گنگو کی قیادت میں گنگو قبیلہ کے افراد کلی گنگو فیروز آباد سے احتجاجی ریلی نکالی ریلی مختلف شاہراوں سے ہوتی ہوئی خضدار پریس کلب کے سامنے پہنچ کر احتجاجی مظاہرہ کی شکل اختیار کی مظاہرین سے ٹکری عبدالحکیم گنگو،سعد اللہ گنگو اور طلال احمد راہی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کلی گنگو فیروز آباد میں گنگو قبیلہ کی مشترکہ اراضیات پر بااثر شخص اور اس کے بدمعاش بیٹے قابض ہو گئے ہیں جعل سازی کے زریعے پورے بارہ سو ایکٹر زمین پر زبردستی قابض ہو کر پورے قبیلہ کے حق پر ڈاکہ زنی کی ہے اس سے متعلق مختلف اوقات میں قبائلی رہنماوں،علماء کرام اور عدالت عالیہ نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا ہے ان تمام حقائق کے باوجود با اثر شخص قبضہ ختم کرنے کے بجائے 17 اپریل 2020 تاریخ کومبینہ طور پر فائرنگ کر کے ہمارے تین معتبر شخصیات کو شدید زخمی بھی کر دیا اور ٓآج بھی وہ تینوں کراچی میں زیر اعلاج ہے اب ضلعی انتظامیہ بھی ان قبضہ کرنے والے عناصر کے ساتھ مل گئی ہے ہمارے آبادی دہیہ کے اراضی پر اسٹیڈیم تعمیر شروع کر دی ہے جس سے گاوں میں رہنے والے اپنے مستقبل میں رہائش کیلئے مکانات کی اراضی پر قبضہ ہونے پر کوفت و پریشانی میں مبتلا ہیں۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ تاریخی طور پر گنگو قبیلہ نے ہمیشہ ترقیاتی اسکیمات کا خیر مقدم کیا ہے اور ہمیشہ محب وطن قبیلہ کے طور پر اپنی پہچان ثابت کی ہے مگر افسوس قبیلہ کے مشترکہ اراضات کے متعلق انتظامیہ بھی فرد واحد سے معاہدہ کر کے قبیلہ کی حق تلفی کر رہی ہے،زمین بھی ہمار ا آتشی اسلحہ سے حملہ بھی ہمارے اوپر ہوا،فائرنگ سے ہمارے معتبر زخمی ہو کر زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں اور مقدمہ و چھاپے بھی ہمارے گھروں پر مارے جا رہے ہیں یہ کہاں کا انصاف ہے اسٹیڈیم کو اگر تعمیر کرنا ہے تو اس کے لئے ہماری آباو اجداد نے گنگو ہائی سکول کے قریب زمین وقف کی ہے اس سے استعفادہ کیا جائے تو ہمیں خوشی ہو گی اور ہماری زمینوں پر قبائلی،شرعی اور عدلیہ کے فیصلوں کے مطابق ہماری حق ملکیت تسلیم کر کے زمینیں ہمارے حوالے کیا جائے ہم اپنی اراضیات پر سے کسی صورت دستبردار نہیں ہونگے انہوں نے وزیر اعلیٰ بلوچستان،کمانڈر سدرن کمانڈ،جی او سی خضدار اور چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے ہمیں ہماری حق قابضین سے لیکر دیا جائے
197