کاشف ایک گاؤں کا غریب لڑکا تھا ۔ عمر کچھ 18 سال تھی ۔ بے انتہا شریف اور سادہ مزاج ۔ اس کے والد مزدوری کرکے اپنا گھر خرچ چلاتے تھے ۔ کاشف کی خواہش تھی کہ شہر جاکر تعلیم حاصل کرے لیکن اس کے والد کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ وہ اپنے لاڈلے بیٹے کی تعلیم کا خرچ برداشت کر سکے ۔۔ پھر بھی انہوں نے کسی سے قرض لے کر کاشف کو شہر روانہ کردیا ۔۔۔
آج کاشف کا اک انجان شہر میں پہلا دن تھا ۔ وہ کالج روانہ ہوگیا ۔ کالج واقعی بہت بڑا تھا ۔ ایک وسیع علاقہ میں پھیلا کالج کا میدان بھی بہت خوبصورت تھا۔
وہ اپنی کلاس میں داخل ہوا ۔ سب اسٹوڈنٹس اس کے لیے اجنبی تھے ۔ وہ خاموشی سے اپنی جگہ جاکر بیٹھ گیا ۔ آج پہلا دن تھا اس لیے سر نے اپنا اپنا تعارف کروانے کے لیے کہا ۔ سب سے آخر میں کاشف نے اپنا تعارف کروایا ۔ اس کا percentage پوری کلاس میں سب سے زیادہ تھا ۔ اور دوسرے نمبر پر ایک لڑکی تھی ، جسکا نام تھا صالحہ ۔
6 مہینے بعد semester exam شروع ہوگۓ ۔۔۔۔چونکہ کاشف ایک ہونہار طالب علم تھا اس لیے اس نے اس بار بھی semester exam میں Top کیا ۔۔۔ اور صالحہ اس بار بھی دوسرے نمبر پر تھی ۔۔۔
صالحہ بھی بہت شریف ،سنجیدہ اور ہونہار لڑکی تھی ۔۔ اس کے والد شہر کے بہت بڑے بزنس مین تھے ۔۔۔ چونکہ کاشف اور صالحہ کا مزاج ایک جیسا تھا اس لئے کاشف اسے پسند کرنے لگا ۔۔ لیکن اس میں یہ ہمت نہیں تھی کہ وہ صالحہ سے کچھ کہہ پاتا ۔۔ اور دوسرا ڈر یہ تھا کہ وہ ایک غریب گھر سے تعلق رکھتا تھا جبکہ صالحہ ایک امیر بزنس مین کی لڑکی تھی ۔۔۔
صالحہ کے والد کا نام محمد نظیر تھا جو شہر کے بہت بڑے آدمی تھے ۔۔۔۔۔
وقت گزرتا رہا اور final exam سر پر آگۓ۔۔۔۔لیکن final exam میں ایک subject ایسا تھا جس میں کاشف بہت کمزور تھا اور صالحہ کو اس subject میں عبور حاصل تھا ۔۔ چونکہ کاشف فیل نہیں ہونا چاہتا تھا اسلیۓ اس نے بہت ہمت کرکے صالحہ سے کہا
“صالحہ مجھے آپ کے Notes چاہیے ۔۔۔میں بعد میں آپ کے Notes واپس کردوں گا ”
صالحہ نے Notes دے دیۓ ۔۔۔۔۔
آخر وہ دن بھی آ پہنچا جب final exam کا رزلٹ آیا لیکن اس بار کاشف دوسرے نمبر پر تھا اور صالحہ نے پوری کلاس میں top کیا تھا ۔۔۔۔
کاشف بڑی ہمت جٹا کر صالحہ کے پاس پہنچا اور کہا “مبارک ہو آپ نے کلاس top کیا ہے” ۔۔۔
صالحہ نے صرف اتنا کہا “شکریہ” اور چلی گئ ۔۔۔
کالج کی پڑھائ ختم ہوچکی تھی ۔۔ صالحہ اس دن کے بعد کبھی نظر نہیں آئ ۔۔۔اور صالحہ کے Notes کاشف کے پاس امانت رہ گۓ ۔۔۔۔ اس نے سوچا کہ یہ Notes کبھی نہ کبھی واپس کردوں گا ۔۔۔۔
وقت گزرتا رہا اور کاشف کی معصوم محبت پروان چڑھتی رہی ۔۔۔۔
کاشف کے دماغ میں بہت سے سوالات گردش کرتے رہے ۔۔۔ وہ سوچتا رہا کہ کاش وہ بھی اک امیر گھر سے تعلق رکھتا اور صالحہ کے گھر شادی کے لئے رشتہ لے جاتا ۔۔ آخر اس نے طے کیا کہ وہ بھی ایک بڑا آدمی بنے گا ۔۔۔۔
کاشف کو ایک اچھی کمپنی میں جاب مل گئی اور مسلسل محنت کی بدولت وہ تین سال کے عرصے میں ہی اس کمپنی کے سب سے بڑے عہدے پر فائز ہوگیا ۔۔۔۔
کاشف ایک بڑا آدمی بن چکا تھا ۔ اس کا گھر جھونپڑے سے ایک عالیشان عمارت میں تبدیل ہوگیا ۔۔۔ اس کے والدین نے اس سے کہا بیٹا شادی کب کر رہے ہو ۔۔۔
کاشف نے انہیں بتایا کہ اسے ایک لڑکی پسند ہے اور وہ اس لڑکی کے گھر رشتہ لے کر جانا چاہتا ہے ۔۔۔ اس کے والدین بھی راضی ہو گئے۔۔
لیکن کاشف کے ذہن میں اچانک اک خیال آیا کہ کہیں صالحہ کی شادی تو نہیں ہوگئ ؟
پھر وہ خود ہی اپنے دل کو تسلی دینے لگا اور سوچنے لگا کہ صالحہ تو بہت ہونہار لڑکی تھی اسلئے ہو سکتا ہے کہ مزید تعلیم حاصل کررہی ہوں گی اور شاید اس کی شادی بھی نا ہوئ ہو ۔۔۔
اس نے سوچا کہ رشتہ لے جانے سے قبل تحقیق کی جائے کہ کہیں صالحہ کی شادی تو نہیں ہوگئ ۔۔۔۔ وہ صالحہ کے شہر کی طرف روانہ ہوا ۔۔۔ اسکا پورا سفر بہت بے چینی سے کٹا ۔۔۔
صالحہ کے گھر کے قریب پہنچا تو دل کی دھڑکن تیز ہوگئی اور بے شمار خیالات اس کو پریشان کرنے لگے۔۔ اس نے پوری ہمت جٹائ اور باہر کے گیٹ پر دستک دی ۔۔۔ چوکیدار نے دروازہ کھولا اور پوچھا
“آپ کو کس سے ملنا ہے ؟ ”
کاشف نے کہا کہ مجھے محمد نظیر سر سے ملنا ہے ۔۔
چوکیدار اسے اندر لے گیا۔۔۔ بہت خوبصورت گھر تھا ۔۔۔
چوکیدار نے کہا آپ اس کمرے میں انتظار کیجئے ، سر تھوڑی دیر میں آئیں گے۔۔
تھوڑی دیر بعد محمد نظیر صاحب آگۓ اور مسکرا کر مصافحہ کیا اور پوچھا “کیا نام ہے بیٹا تمہارا” ؟
Next jany k liye cmnt krein